اسرائیل میں ایک بادشاہ تھا جو اپنے آپ پر بے جا خرچ کیا کرتا تھا حالانکہ وہ ایک مسلمان تھا، جب وہ کھانا کھا لیتا تو اپنا بچا کچھا کھاناکوڑے دان میں پھینک دیا کرتا تھا، ایک عابد وہاں آتاتھااگر اسے روٹی کا کوئی ٹکڑا ملتا تواسے کھا لیا کرتا تھا اور اگر کوئی گوشت لگی ہڈی مل جاتی تو اس کا گوشت اتار کے کھا لیتا۔ جب اس بادشاہ کا انتقال ہوا تواللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے اس کے گناہوں کے سبب جہنم میں ڈال دیا۔ ادھر وہ عابد جنگل کی طرف نکل گیا اور وہاں کی سبزی اور پانی پر گز بسر کرنے لگا پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کی روح قبض فرمائی تو اس سے فرمایا: کیا تجھ پر کسی کا احسان ہے کہ میں اسے اس کا بدلہ دوں؟ اس نے کہا: نہیں میرے مولیٰ۔ ارشاد فرمایا: پھر تیرا گزر اوقات کیسے ہوا کرتا تھا۔ حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّخوب جانتا ہے ۔ اس نے کہا: میں ایک بادشاہ کے کوڑے دان کے پاس آتا پس اگر مجھے وہاں روٹی کا کوئی ٹکڑا یاکوئی ترکاری ملتی تو اسے کھا لیتا اور اگر کوئی گوشت لگی ہڈی پاتا تو اس کا گوشت نوچ لیتا پھر تو نے اس بادشاہ کو موت دی تو میں جنگل کی طرف نکل پڑا اور وہاں پانی اورنباتات پر گزارا کرنے لگا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس سے فرمایا: کیا تو اس بادشاہ کوپہچان لے گا؟ پھر ربّ تعالیٰ نے حکم دیا تو اس بادشاہ کودوزخ سے نکال لیا گیا، وہ ایک بجھتا ہواانگارابنا ہوا تھا، پھر عابد سے دوبارہ وہی سوال پوچھا گیا تو اس نے عرض کی: ہاں میرے مولیٰ! یہی وہ بادشاہ ہے جس کے کوڑادان سے میں کھایا کرتا تھا ، پھر عابدسے کہا گیا: اس کا ہاتھ پکڑاور جنت میں لے جا کیونکہ اس نے تیرے ساتھ انجانے میں نیکی کی ہے ، اگر اس بادشاہ کو اپنی اس نیکی کا علم ہوتا تو میں اسے عذاب ہی نہ دیتا۔ (1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اچھا گمان رکھو:
(10586)…حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک مریض کی عیادت کرتے ہوئے فرمایا: تمہارااپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کے بارے میں کیسا گمان ہے ؟ اس نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں اچھا گمان رکھتا ہوں۔ ارشاد فرمایا: جو چاہو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ گمان رکھوکیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مومن کے گمان کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ فرماتا ہے ۔ (2)
عمل فرشتوں کا ثواب مومن کا:
(10587)…حضرت سیِّدُناابوسعیدخدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورنَبِیِّ رحمت، شَفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے مومن بندے کی روح قبض فرماتا ہے تو دو فرشتے آسمان کی طرف جاتے ہیں اور عرض کرتے ہیں: اے ہمارے ربّ!تو نے ہمیں اپنے مومن بندے پر مامور کیا کہ ہم اس کا عمل لکھتے رہیں اور اب تو نے اسے اپنے پاس بلا لیا ہے پس اب ہمیں آسمان پر رہنے کی اجازت عطا فرما۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے : میرا آسمان فرشتوں سے بھرا ہوا ہے وہ میری پاکی بیان کرتے رہتے ہیں۔ تو وہ عرض کرتے ہیں: تُو ہمیں زمین پر رہنے کی اجازت عطا فرمادے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے : میری زمین میری مخلوق سے بھری ہوئی ہے وہ میری پاکی بیان کرتے رہتے ہیں۔ ہاں تم میرے مومن بندے کی قبر پر کھڑے ہو کر قیامت تک میری تسبیح، تَہْلِیْل اور تکبیر کہتے رہو اور اسے میرے بندے کے لئے لکھ لو۔ (3)
انتہائی خاص رحمت:
(10588)…حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضورجانِ عالَم، شَفیعِ معظّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ، یقیناً قیامت کے دن لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت کی ایسی شان بھی دیکھیں گے کہ کسی مقرب فرشتے ، نبی مرسل اور نیک بندے کے دل پر اس کا خیال بھی نہ گزرا ہو گا۔ (4)
جہنم سے جنت میں جانے والے لوگ:
(10589)…حضرت سیِّدُناابوسعید خدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب، حبیْبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت فرمائی:
عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا(۷۹) (پ۱۵، بنی اسرآئیل: ۷۹) ترجمۂ کنز الایمان: قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں۔
پھر ارشاد فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ بہت سے اہْلِ قبلہ ایمان والوں کوحضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی شفاعت کے سبب جہنم سے آزاد فرمائے گا پس یہی مقام محمود ہے پھر انہیں ’’حَیَوَان‘‘نامی نہر پر لایا جائے گا اور انہیں اس میں ڈالا جائے گا تواس سے وہ ایسے نشو نما پائیں گے جیسے چھوٹی ککڑی بڑھتی ہے پھر وہاں سے نکل کر جنت میں داخل ہوں گے تو وہ جہنمی کہلائیں گے پھر بارگاہِ خداوندی میں عرض کریں گے کہ ان سے یہ نام دور کر دیا جائے تو ان سے وہ نام دور کر دیا جائے گا۔ (5)
قصداً نمازچھوڑنے کا وبال:
________________________________
1 - تا ریخ ابن عساکر، ۶۰ / ۳۱۹، رقم: ۷۶۶۵، منصور بن عبد الله ابو القاسم الوراق، بتغیر
2 - حدیث ابی الفضل الزھری، جزء: ۵، ۱ / ۴۶۶ ، حدیث: ۴۷۵
3 - الکامل لابن عدی، ۶ / ۴۴۵، رقم: ۱۳۹۷، عيسى بن عبد الله بن الحكم، عن انس
4 - تخریج نہیں ملی۔
5 - شرح مسند ابی حنیفة، حدیث الشفاعة، ص۲۹۴