Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
273 - 361
کرنے والے کے خلاف میری مدد فرما اور اس میں مجھے میرا بدلہ دکھا۔ (1)
سیِّدُنا ابو بکر و عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا کا جنتی مقام: 
(10579)…حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرورِ دو عالَم، نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: نچلے درجے والے بلند درجے والوں کو ایسے دیکھیں گے جیسے وہ آسمان کی بلندی میں سرخ ستارے کو دیکھتے ہیں ابو بکر و عمر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا)ان ہی بلند درجے والوں میں سے ہیں اوربہت ہی اچھے ہیں۔ (2) 
چہرے پر مارنے کی ممانعت: 
(10580)…حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور رحمتِ عالَم، نور ِمجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  جب کسی کا اپنے بھائی سے جھگڑا ہو تو وہ چہرے پر مارنے سے بچے ۔ (3)  
(10581)…حضرت سیِّدُنا ابو سعیدخدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ مُعَلِّمِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  جس نے عِلْمِ دین سیکھنے میں صبح اور شام کی وہ جنتی ہے ۔ (4)
(10582)…حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ رسولِ خدا، شاہِ اتقیاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  میں نے جب کسی عورت سے نکاح کیا یا اپنی کسی بیٹی کا نکاح کیاتو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حکم سے کیا جو  حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام میرے پاس لے کر آئے ۔ (5)
زبانِ رُوْحُ اللہ  سے تفسیْرِ بسم اللہ: 
(10583)…حضرت سیِّدُنا ابوسعیدخدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  جب حضرت عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کی والدہ نے انہیں مکتب بھیجا  تاکہ مُعَلِّم آپ کو تعلیم دے تو اس نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام سے کہا:  ” بِسْمِ اللہ “ لکھو۔ حضرت عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے کہا:   ” بِسْمِ اللہ “  کا کیا مطلب ہے ؟ معلم نے کہا:  مجھے معلوم نہیں۔ 
	حضرت عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: با سے مراد بَہاءُ اللہ (یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا جمال) ہے ، سین سے مراد اس کی سناء (یعنی رفعت  وبلندی) ہے اور میم سے مراد اس کا ملک(یعنی بادشاہت) ہے جبکہ لفظ ’’اللہ ‘‘ سے سارے جھوٹے معبودوں کا بھی معبود ِ حقیقی مراد ہے ۔ الرحمٰن سے مراد دنیا وآخرت میں رحم کرنے والا ہے اور رحیم سے مراد آخرت میں رحم کرنے والا ہے ۔ 
	حروفِ ابجد میں الف سے مراداٰلَاءُالله(اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نعمتیں) ہیں، جیم سے مراد اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا جمال ہے ، دال سے مراددائم(یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمیشہ رہنے والا ) ہے ۔ 
	حروف ھَوَّز میں ھا سے مراد ہَاوِیَہ (یعنی دوزخ کی آگ)، واؤ سے مراد وَيْلٌ لِّاَهْلِ النَّارِ(جہنمیوں کی خرابی) ہے اور زا سے مراد ’’زَای‘‘ نامی جہنمی وادی ہے ۔ 
	حروف حُطِّی میں حا سے مراداللہ عَزَّ  وَجَلَّ حلیم ہے ، طا سے مراد اللہ عَزَّ  وَجَلَّہر حق لے کر اس کے حقدار کو دینے والا ہے اور یا سے مراداٰیُ اَہْلِ النَّاریعنی جہنمیوں کی درناک آوازیں ہیں۔ 
	حروف کَلَمُن میں کاف سے مراد اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کافی ہے ، لام سے مراد اللہ عَزَّ  وَجَلَّ علیم ہے ، میم سے مراد اللہ عَزَّ  وَجَلَّ مَلِک (یعنی بادشاہ)ہے اور نون سے مراد ” نُوْنُ الْبَحر “ یعنی(اللہعلم وقدرت کا)سمندرہے ۔ 
	حروف سَعفَص میں سین سے مراد اللہ عَزَّ  وَجَلَّسلامتی والاہے ، عین سے مراد اللہ عَزَّ  وَجَلَّ عالِم ہے ، فا سے مراد اللہ عَزَّ  وَجَلَّ فرد( یعنی اکیلا) ہے اور صاد سے مراد ہے اَللهُ الصَّمَدُ (یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بے نیاز) ہے ۔ 
	حروف قَرْشَت میں قاف سے مراد وہ پہاڑ ہے جو ساری دنیا کو گھیرے ہوئے ہے اور اس سے آسمان سر سبز و شاداب ہیں، را سے مراد لوگوں کا اسے دیکھنا ہے اور شین سے مراد  ” شَیْءُ اللہ “ یعنیاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی مشیت ہے اورتاسے مرادتَمَّتْ اَبَدًا(دنیا کا لازمی طور پر ختم ہونا) ہے ۔ (6)  
انجانی نیکی کا صلہ: 
(85-10584)…حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ مدینے کے تاجدار، غیبوں پر خبردار باذنِ پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  بنی 


________________________________
1 -   مصنف ابن ابی شیبة، کتاب الدعاء، باب ما كان يدعو به النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم؟، ۷ / ۶۳، حدیث: ۹
2 -   ابن ماجہ، المقدمة، باب فضل ابی بكر الصديق رضی الله عنه، ۱ / ۳۷، حدیث:  ۹۶، تاریخ ابن عساکر، ۴۴ / ۱۸۶، حدیث: ۹۷۲۰
3 -   مسلم، کتاب البر والصلة، باب النهی عن ضرب الوجه ، ص۱۴۰۸، حدیث: ۲۶۱۲، عن ابی ھریرة
4 -   جامع صغیر، ص۵۳۵، حدیث: ۸۸۷۲
5 -   الکامل لابن عدی، ۱ / ۴۹۵، رقم:  ۱۲۹، اسماعيل بن يحيى بن عبيد اللّٰه التيمی
6 -   الکامل لابن عدی، ۱ / ۴۹۳، رقم:  ۱۲۹، اسماعيل بن يحيى بن عبيد اللّٰه التيمی، بتغیرقلیل