ہے اور میں اسے بڑھاتا ہوں جبکہ گناہ ایک ہی ہے اور میں اسے مٹاتا ہوں اور جو زمین بھر خطاؤں کے ساتھ مجھ سے ملے گا میں اس سے اتنی ہی مغفرت کے ساتھ ملوں گا جب تک وہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے ۔ (1)
ظالم حکمرانوں سے کیسا طرزِ عمل رکھیں؟
(10571)…حضرت سیِّدُنا کَعْب بن عُجْرَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس شہنشاہِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لائے ہم نو افراد تھے جن میں پانچ عربی اور چار عجمی تھے ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: عنقریب میرے بعد تم پر کچھ حاکم مقرر ہوں گے ، جس نے ان کے پاس جا کر ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کی تو اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ میرے حوض پر آئے گا اور جو ان کے پاس نہ گیا اور ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق نہ کی اور نہ ہی ان کے ظلم پر ان کی مدد کی تو اس کا مجھ سے اور میرا اس سے تعلق ہے اور وہ میرے حوض پر آئے گا۔ (2)
قبولیتِ دعا میں جلدبازی کی ممانعت:
(10572)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاک، صاحِبِ لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: مسلمان کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے یا یوں کہہ کر جلد بازی نہ کرے کہ میں نے دعا کی تھی لیکن میری دعا قبول نہیں ہوئی۔ (3)
تکلیف میں بھی رحمت:
(10573)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عَمْرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جب کسی مسلمان کو کوئی جسمانی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے محافظ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ ” میرا بندہ جب تک میری آزمائش کی زنجیر میں جکڑا ہوا ہے اس کے لئے ہر دن اور رات میں وہ عمل لکھو جو یہ تندرستی میں کیا کرتا تھا۔ “ (4)
(10574)…حضرت سیِّدُنا براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو نماز عشاء میں سورہ’’وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْن‘‘کی تلاوت کرتے سنا ہے ۔
(10575)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں: نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وراثت میں درہم ودینار چھوڑے نہ کوئی لونڈی غلام ۔
ایک روایت میں یوں بھی ہے کہ ’’نہ کوئی بکری چھوڑی نہ اونٹ۔ ‘‘
والدین کا رُتبہ:
(10576)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عَمْرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ ایک شخص بارگاہِ رسالت میں ہجرت پر بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوا، وہ اسلام لا چکا تھا، کہنے لگا: میں والدین کو روتاچھوڑ کر آرہا ہوں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اِرْجِعْ اِلَيْهِمَافَاَضْحِكْهُمَاكَمَااَبْكَيْتَهُمَاان کے پاس لوٹ جاؤ اورانہیں ویسے ہی ہنساؤ جیسے رُلایا ہے ۔ ‘‘اورآپ نے اسے بیعت نہ فرمایا ۔ (5)
جنت و دوزخ نگاہوں کے سامنے :
(10577)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عَمْرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا روایت کرتے ہیں کہ حضورنبی رحمت، مالکِ کوثر و جنت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: میرے سامنے جنت لائی گئی اگر میں ہاتھ بڑھا تا تو اس کا کوئی خوشہ لے لیتا اور میرے سامنے جہنم لایا گیا ، میں نے اس میں لاٹھی والے کو دیکھا جو اپنی لاٹھی سے حاجیوں کی چوری کیا کرتا تھا وہ جہنم میں اپنی لاٹھی سے ٹیک لگائے ہوئے تھا (اگرپکڑاجاتا تو) وہ کہتا: یہ کپڑا میری لاٹھی میں اٹک گیا تھا اور میں نے جہنم میں بلی والی عورت کو دیکھا، جب وہ آگے بڑھتی تو وہی بلی اسے نوچتی ہے اور اگر پیچھے ہٹتی تو پیچھے سے نوچتی۔ اس عورت نے اس بلی کو قیدسے آزادکیا نہ ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھانے کے لئے چھوڑاحتّٰی کہ وہ بھوک سے مرگئی۔ (6)
(10578)…حضرت سیِّدُنا حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب، حبیب لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ دعا کیا کرتے تھے : اَللّٰهُمَّ اَقِلْنِيْ عَثْرَتِيْ وَاٰمِنْ رَوْعَتِيْ وَاسْتُرْ عَوْرَتِيْ وَانْصُرْنِيْ عَلٰی مَنْ بَغٰى عَلَيَّ وَاَرِنِيْ فِيْهِ ثَاْرِيیعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!میری خطائیں معاف فرما، مجھے خوف سے امن عطا فرما، میرے عیوب کی پردہ پوشی فرما اور میرے ساتھ زیادتی
________________________________
1 - تا ریخ ابن عساکر، ۱۲ / ۳۱۸، حدیث: ۲۹۶۹، رقم: ۱۲۴۰، حرب بن محمد بن علی بن حيان
2 - نسائی، کتاب البیعة، باب ذکر الوعید لمن اعان امیر علی الظلم، ص۶۸۶، حدیث: ۴۲۱۴
3 - مسلم، کتاب الذکر والدعاء، باب بیان انہ یستجاب للداعی الخ ، ص۱۴۶۳، حدیث: ۲۷۳۵
4 - مسند امام احمد، مسند عبد اللّٰہ بن عمرو، ۲ / ۶۳۸، حدیث: ۶۸۸۷
5 - ابن حبان، کتاب البر والاحسان، ذكر مايجب على المرء من بر الوالدين الخ، ۱ / ۳۲۶، حدیث: ۴۲۴
6 - نسائی، کتاب الکسوف، باب القول فی السجود فی صلاة الکسوف، ص۲۵۸، حدیث: ۱۴۹۳، جمع الجوامع، ۳ / ۲۷، حدیث: ۷۰۷۶