Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
271 - 361
اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت نہیں بن سکتا۔ (1)   
سب سے زیادہ پیاری بات: 
(10561)…حضرت سیِّدُناابوعبدالرحمٰن سلمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیسے روایت ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں:  جب تمہیںرَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اسے سب سے زیادہ صحیح ، سب سے زیادہ باقی رہنے والی اور سب سے پیاری بات سمجھو۔ 
سوتے وقت کی دعا: 
(10562)…حضرت سیِّدُنا براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہرحمۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن، شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:  جب اپنے بستر پر جاؤ تو کہو:  اَللّٰهُمَّ اَسْلَمْتُ وَجْهِيْ اِلَيْكَ لَا مَنْجَا مِنْكَ اِلَّا اِلَيْكَ اٰمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِيْ اَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِيْ اَرْسَلْتَیعنی الٰہی! میں تیری جانب متوجہ ہوا، تیرے سوا کوئی نجات کی جگہ نہیں، میں تیری اتاری کتاب اور تیرے بھیجے ہوئے رسول پر ایمان لایا۔ (2)
جنگ ایک دھوکا ہے : 
(10563)…حضرت سیِّدُناجابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ مکی مدنی سلطان، رحمَتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  اَلْحَرْبُ خَدْعَةٌ یعنی جنگ دھوکا ہے ۔ (3)
(10564)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ محبوبِ خدا، شفیْعِ روزِ جزا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پچھنے لگوایا کرتے تھے اور اجرت دینے میں کسی کی حق تلفی نہیں فرماتے تھے ۔ (4) 
خَیْرُ الْبَرِیَّہ: 
(10565)…حضرت سیِّدُنا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یَا خَیْرَ الْبَرِیَّہ ( یعنی اے مخلوق میں سب سے بہتر انسان!)کہہ کر پکارا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  یہ میرے والد ابراہیم ہیں(5)۔ (6)
(10566)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرورِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  جب غلام چوری کرے تو اسے بیچ دو اگرچہ 20 درہم میں۔ (7)
دنیا میں جنت کا باغ: 
(10567)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ حضورنبی پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  میرے منبر کے پائے جنت میں قائم ہیں اورمیری قبر اور میرے منبر کا درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے ۔ (8)
سورۂ ملک کی فضیلت: 
(10568)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ تورات شریف  میں لکھا ہے :  جس نے ہر رات سورۂ ملک پڑھی تو  اس کے مال میں اضافہ ہو گا اور وہ خوشحال ہو گا، یہ سورت روکنے والی ہے جو عذابِ قبر کو روکتی ہے ، جب مردے کے سر کی جانب سے عذاب آنے لگتا ہے تو اس کا سر کہتا ہے :  میری طرف سے ہٹ جا کہ یہ میرے ذریعے سورۂ ملک تلاوت کیا کرتا تھا، جب اس کے پیٹ کی جانب سے عذاب آنے لگتا ہے تو پیٹ کہتا ہے :  میری طرف سے ہٹ جا کہ اس نے مجھ میں سورۂ ملک محفوظ کر رکھی ہے اور جب پاؤں کی جانب سے عذاب آنے لگتا ہے تو پاؤں کہتے ہیں:  ہماری طرف سے ہٹ جاؤ کہ  ہم پر کھڑے ہو کرسورۂ ملک کی تلاوت کیا کرتا تھا۔ یہ سورت تورات شریف  میں بھی یونہی لکھی ہوئی ہے ۔ 
(10569)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ گناہ کبیرہ وہ ہیں جن کا بیان سورہ نساء کی ابتدا سے تیسویں آیت کے اختتام تک ہے ۔ 
رحمتِ خداوندی: 
(10570)…حضرت سیِّدُناابوذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ رحمَتِ عالَم، نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّارشاد فرماتا ہے :  ابنِ آدم کی نیکی دس گنا 


________________________________
1 -   مسلم، کتاب الرؤیا، باب قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم من رآنی فی المنام، ص۱۲۴۴، حدیث: ۲۲۶۶، عن ابی ھریرة
2 -   مسند ابن الجعد، من حديث ابی اسحاق السبيعی عن هبيرة بن يريم ، ص۷۸، حدیث: ۴۳۳
3 -   بخاری، کتاب الجھاد والسیر، باب الحرب خدعة، ۲ / ۳۱۸، حدیث: ۳۰۳۰
4 -   مسلم، کتاب السلام، باب لكل داء دواء واستحباب التداوی، ص۱۲۱۱، حدیث: ۱۵۷۷
5 -   یعنی لفظخَیْرُالْبَرِیَّہحضرت ابراہیمعَلَیْہِ السَّلَامپرسجتاہے کہ وہاللہ(عَزَّ  وَجَلَّ)کے خلیل بھی ہیں اورحضرات انبیاءعَلَیْہِمُ السَّلَام کے والدبھی، کعبہ بنانے والے بھی، مکہ بسانے والے بھی، میری اصل بھی۔ حضورانور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کایہ فرمانِ عالی تواضُعًاہیں ورنہ حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ہمیشہ کے لیے خَیْرُالْبَرِیَّہہیں، حضرت خلیل اپنے زمانہ میںخَیْرُالْبَرِیَّہتھے لہٰذایہ حدیث اِن اَحادیث کے خلاف نہیں’’اَنَاسَیِّدُوُلْدِاٰدَمَ(میں اولادِآدم کاسردارہو)اٰدَمُ وَمَنْ سَوَاہٗ تَحْتَ لِوَائِی(آدم اورتمام بنی آدم بروزِ قیامت میرے لوائے حمدکے نیچے ہوں گے )‘‘وغیرہ کہ اِن احادیث میں واقعہ کا ذکر ہے اور یہاں تواضُع و اِنکسارکااِظہارجیسے کوئی بڑاآدمی اپنے سے ماتحت کا احترام کرے اورکرائے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۶ /  ۵۰۵)
6 -   مسند البزار، ابراهيم النخعی  عن انس، ۱۴ / ۵۱، حدیث: ۷۴۹۰
7 -   ابن ماجہ، کتاب الحدود، باب العبد یسرق، ۳ / ۲۴۳، حدیث: ۲۵۸۹
8 -   سنن کبری للنسائی، کتاب الحج، باب المنبر، ۲ / ۴۸۸، ۴۸۹، حدیث: ۴۲۸۷، ۴۲۹۰