اچھی طرح ادا کرے ۔ (1)
(10541)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن ابو اوفیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ سات غزوات میں شرکت کی اور ہم حضور کے سامنے ٹڈی کھاتے تھے ۔ (2)
ادنیٰ مسلمان بھی ذِمَّہ دے سکتاہے :
(10542)…حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ مسلمانوں کا ذمہ ایک ہے کہ ایک ادنٰی مسلمان بھی ذمہ دے سکتا ہے جوکسی مسلمان کی عہد شکنی کرے اس پر اللہعَزَّ وَجَلَّ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّقیامت کے دن اس کے فرض قبول فرمائے گا نہ نفل۔ (3)
(10543)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عَمْرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضورنبی اکرم، شَفیعِ مُعَظَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے صورکے بارے میں پوچھاتوآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: صورایک سینگ ہے جس میں پھونکا جائے گا۔ (4)
سب سے زیادہ نفع مند:
(10544)…حضرت سیِّدُناعُمَربن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّپرایمان لانے کے بعد آدمی کے لیے سب سے بڑا نفع خوش اخلاق، محبت کرنے اور بچے جننے والی بیوی ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ کفر کے بعدآدمی کے لیے بڑا نقصان بداخلاق اورزبان دراز بیوی ہے ۔ کچھ عورتیں اس غنیمت کی طرح ہوتی ہیں جس میں سے کچھ نہ جائے (یعنی مرد ان سے پورا پورا نفع اٹھاتا ہے ) اور کچھ عورتیں اس غلام کی طرح ہوتی ہیں جس سے فدیہ دیا جاتا ہے (یعنی مرد ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے )۔ (5)
اہْلِ عرب کی ہلاکت:
(10545)…حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے چارمرتبہ فرمایا: ربِّ کعبہ کی قسم!میں جانتا ہوں اہلِ عرب کب ہلاک ہوں گے ، اس وقت جب ایسے شخص کوان کا حاکم بنایا جائے جس نے رَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبت نہیں پائی اور نہ ہی دور جاہلیت کے کسی معاملے کا حل نکالا۔ (6)
(10546)…حضرت سیِّدُناعبداللہ بن سلامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ سرکارِمدینہ، راحَتِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: لَاصَلَاةَ لِمُلْتَفِتٍیعنی اِدھراُدھردیکھنے والے کی کوئی نماز(کامل) نہیں۔ (7)
(10547)…حضرت سیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: بَیْتُ اللہپرلڑنے سے لشکرکبھی بازنہ آئیں گے یہاں تک کہ ان میں سے ایک گروہ کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ (8)
سب سے اولٰی و اعلٰی ہمارا نبی:
(10548)…حضرت سیِّدُناعبداللہبن عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں: سرکاردوعالَم، شفیْعِ اُمَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے زیادہ دلیر، بہادر، سخی اور حسین و جمیل میں نے کوئی نہیں دیکھا۔
نمازوں کے بعد کا ایک وِرد:
(10549)…حضرت سیِّدُنا مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا معاویہ بن ابو سفیانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو یہ مکتوب بھیجا کہ میں نے محبوب خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ہر نماز کے بعد یہ کہتے سنا: لَااِلٰهَ اِلَّااللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُوَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ اَللّٰهُمَّ لَامَانِعَ لِمَااَعْطَيْتَ وَلَامُعْطِيَ لِمَامَنَعْتَ وَلَايَنْفَعُ ذَاالْجَدِّمِنْكَ الْجَدُّیعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سواکوئی معبودنہیں، وہ اکیلاہے اس کاکوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اوراسی کے لیے حمد ہے اوروہ ہر چیز پر قادر ہے ، اے اللہعَزَّ وَجَلَّ!جو تودے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو توروکے اسے کوئی دے نہیں سکتااورتیرے مقابلے پر کسی دولت مند کو دولت نفع نہیں دیتی۔ (9)
فضیلتِ سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ:
________________________________
1 - بخاری، کتاب الوکالة، باب وکالة الشاھد والغائب جائزة، ۲ / ۸۰، حدیث: ۲۳۰۵
2 - ٹڈی حلال ہے حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے سامنے صحابَۂ کرام(عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان)نے کھائی ہے مگر حضور انور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے خود کبھی نہ کھائی بلکہ فرمایا کہ یہاللہ تعالیٰ کی بڑی مخلوق ہے میں نہ اسے کھاتا ہوں نہ حرام کرتا ہوں، ہم نے پہلے عرض کردیا ہے کہ خشکی کے بے خون جانور سارے حرام سوا ٹڈی کے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۵ / ۶۶۳)
3 - بخاری، کتاب الجزیة والموادعة، باب اثم من عاھد ثم غدر، ۲ / ۳۷۰، حدیث: ۳۱۷۹
4 - ترمذی، کتاب التفسیر، باب ۴۰، ۵ / ۱۶۵، حدیث: ۳۲۵۵
5 - سنن کبری للبیھقی، کتاب النکاح، باب استحباب التزوج بالودود الولود، ۷ / ۱۳۲، حدیث: ۱۳۴۷۹
6 - شعب الایمان، باب فی التمسك بما عليه الجماعة، فصل فی فضل الجماعة، ۶ / ۶۹، حدیث: ۷۵۲۵
7 - معجم صغیر، جزء ۱، ص۶۴، حدیث: ۱۷۳ عبد اللّٰہ بن سلام عنہ ابیہ
8 - سنن کبری للنسائی، کتاب الحج، باب حرمة الحرم، ۲ / ۳۸۵، حدیث: ۳۸۶۱، ” تلتہ “ بدله ” تنتھی “
9 - بخاری، کتاب الاذان، باب الذکر بعد الصلاة، ۱ / ۲۹۴، حدیث: ۸۴۴