Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
268 - 361
تسبیح چھوڑنے کا نقصان: 
(10532)…(ب)حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرورِدوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  کسی جانورکاشکار ہونا یا کسی درخت کا کاٹا جانا اس کے تسبیح چھوڑ دینے کی وجہ سے ہے ۔ (1)
(10533)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا روایت کرتے ہیں کہ شہنشاہِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے صحابہ سے فرمایا:  اپنے دلوں میں ایمان تازہ کرتے رہا کرو، جو حرام میں مبتلا ہو وہ حرام سے حلال  کی طرف چلا جائے اور جو احسان کرنے والے کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے اس کا ثواب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ذِمَّۂ کرم پر ہے اور جو مجھ پر ایک مرتبہ درود پاک پڑھتا ہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے فرشتے اس  پر دس دس رحمتیں نازل کرتے ہیں اور جوایسی دعائیں مانگے جس میں گناہ اور قطع رحمی نہ ہو تو وہ قبول کر لی جائیں گی اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے پر جمعہ کے دن جمعہ فرض ہے سوائے عورت، غلام، بچے اور مسافر کے ۔ جو کسی کھیل یا تجارت کی وجہ سے اس سے غافل رہا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو اس کی کوئی پروا نہیں اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا۔ (2)
(10534)…حضرت سیِّدُنا نعمان بن بشیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ رسول پاک، صاحِبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز میں صفوں کو ایسے سیدھا فرماتے تھے جیسے نیزے یا تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے ۔ (3)
(10535)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  وَاللهِ لَاَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا یعنی بخدا! میں قریش سے ضرور جہاد کروں گا۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر کچھ دیر خاموشی اختیار کرنے کے بعد فرمایا:  اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے چاہا۔ (4)
کَعْبَۃُاللہمیں نماز: 
(10536)…حضرت سیِّدُناسِمَاک حَنَفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے کعبہ شریف کے اندرنماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیاتوآپ نے فرمایا:  ” اس میں نماز پڑھو کیونکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اس میں نماز پڑھی ہے عنقریب کوئی ایسا آدمی آئے گا جو تمہیں اس سے منع کرے گا تو تم اس کی بات نہ ماننا۔  “ پھر میں نے حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے پاس جا کر اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: تم پورے کعبے کو سامنے رکھنااور  اس کے کسی بھی حصے کو اپنے پیچھے نہ رکھنا(یعنی اندر نماز نہ پڑھنا)۔ 
(10537)…حضرت سیِّدُناعبداللہبن عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہاللہعَزَّ  وَجَلَّکے محبوب، دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نمازِ خوف میں ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی پھر دوسرے گروہ کو ایک رکعت پڑھائی۔ 
(10538)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  قیامت قریب آچلی ہے اور لوگوں کی حرص دنیا پر بڑھتی چلی جارہی ہے جبکہ دنیا ان سے دورہی ہوتی چلی جا رہی ہے ۔ (5)
امیر کی اطاعت کرو: 
(10539)…حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ حضورنَبِیِّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہ ِ وَاٰ  لِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ” اَئمہ قریش سے ہوں گے ، ان کے نیک لوگ نیک لوگوں کے امیراور بُرے لوگ بُرے لوگوں کے امیر ہوں گے ، ہر ایک کا حق ہے تو تم ہر حق دار کو اس کا حق دینا اور اگر تم پر کان اور ناک کٹا کوئی حبشی غلام بھی 
حاکم بنا دیا جائے تو اس کی بات سننا اور اطاعت کرنا جب تک تمہیں اس کے اسلام اور گردن مارنے کے درمیان اختیار نہ مل جائے پس اگر تم میں سے کسی کو اس کے اسلام اور گردن مارنے کے درمیان اختیار ملے تو اسے چاہئے کہ اس کی گردن اڑا دے ۔  اس کی ما ں اس پر روئے ! اسلام رخصت ہو جانے کے بعد اس کی دنیا ہے نہ آخرت۔  “ (6)
قرض اچھی طرح ادا کیجئے : 
(10540)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حسن اخلاق کے پیکر، محبوبِ ربِّ اکبرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشا دفرمایا: تم میں بہترین شخص وہ ہے جو قرض 


________________________________
1 -   مسند الفردوس، ۲ / ۳۳۹، حدیث: ۶۷۰۵، عن عمر بن الخطاب، بتغیرقلیل
2 -   تاریخ اصبھان، ۲ / ۲۳۲، رقم:  ۱۵۴۲، محمد بن إسماعيل بن سلمة
	جمع الجوامع، ۷ / ۲۵۸، حدیث:  ۲۲۸۷۸
3 -   مسند امام احمد، مسند الکوفیین ، حدیث النعمان بن بشیر، ۶ / ۳۷۸، حدیث: ۱۸۴۰۴
4 -   ابو داود، کتاب الایمان والنذر، باب الاستثناء فی الیمین بعد السکوت، ۳ / ۳۱۲، حدیث: ۳۲۸۵، عن عکرمة
5 -   الزھد لابن ابی عاصم، باب مااحب ان لی برکعتی الفجر الدنیا، ص۱۱۲، حدیث: ۲۷۹
6 -   معجم اوسط، ۲ / ۳۵۳، حدیث: ۳۵۲۱