خوفِ خدا کا حق:
(24-10523)…فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
اِتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ (پ۴، اٰل عمرٰن: ۱۰۲) ترجمۂ کنز الایمان: اللہ سے ڈرو جیسا اُس سے ڈرنے کا حق ہے ۔
حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ حضورنبی اکرم، رسولِ محتشمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کی تفسیر کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں: اس سے ڈرنے کا حق یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے ، اسے یادکیا جائے بُھلایا نہ جائے اور اس کا شکر کیا جائے نا شکری نہ کی جائے ۔ (1)
فضل ورحمت کاسوال:
(10525)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ نبیوں کے سلطان، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس ایک مہمان آیا تو آپ نے کسی کو ازواجِ مطہرات کے پاس کھانا لینے بھیجا۔ اس نے کسی کے پاس کچھ نہ پایا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب، حبیْبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی: ” اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں تجھ سے تیرے فضل اور رحمت کا سوال کرتا ہوں کیونکہ تیرے سوا اس کا کوئی مالک نہیں ہے ۔ “ اتنے میں بھنی ہوئی بکری بارگاہِ رسالت میں تحفۃً پیش کی گئی۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ” یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فضل ہے اوراس کی رحمت کا ابھی ہمیں انتظار ہے ۔ ‘‘
(10526)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں: میں حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو انتہائے سحر کے وقت اپنے پاس آرام کرتے پاتی تھی۔
(10527)…حضرت سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن عوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپیلوکے پھل کے پاس سے گزرے توارشادفرمایا: ان میں سے کالے کالے چُنوجب میں بکریاں چراتاتھاتو اسے توڑتاتھا ۔ لوگوں نے عرض کی: یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیاآپ بکریاں چراتے تھے ؟ ارشادفرمایا: ہرنبی نے بکریاں چرائی ہیں۔ (2)
(10528)…حضرت سیِّدُناعبدالرحمٰن بن عوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ مکی مدنی سلطان، رحمَتِ عالمیانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس سے گزرے تو ہم پیلو کے پھل توڑرہے تھے ۔ یہ دیکھ کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ان میں سے کالے کالے چُن لو (پھر پچھلی روایت کے مثل ذکر کیا) ۔ (3)
(10529)…حضرت سیِّدُنا ابو بُردہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمانے لگے : ” میں نے جو بھی نماز پڑھی، اس امید پر پڑ ھی کہ وہ میرے گناہوں کا کفارہ بن جائے ۔ “
سیِّدُنافاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا خوفِ خدا:
(10530)…حضرت سیِّدُناابوبُردہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی تو آ پ کو سجدوں میں یہ دعا کرتے سنا: ” رَبِّ بِمَا اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَکُوۡنَ ظَہِیۡرًا لِّلْمُجْرِمِیۡنَ یعنی اے میرے پرودگار عَزَّ وَجَلَّ!تیرے فضل و انعام سے میں مجرموں کا ہر گز مددگار نہ بنوں۔ پھر فرمایا: میں نے جو بھی نماز پڑھی، اس امید پر پڑ ھی کہ وہ میرے گناہوں کا کفارہ بن جائے ۔
پھر حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاحضرت سیِّدُناابوبُردہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہنے لگے : میرے والد آپ کے والد پر غالب آگئے اس طرح کہ انہوں نے آپ کے والد صاحب سے فرمایا: ابو موسٰی ! کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ تم حضور نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی معیت میں کیے ہوئے عمل کے سبب برابری کے طور پر چھوٹ جاؤ اس طرح کہ نہ تمہیں ان اعمال کا کوئی فائدہ ہو نہ نقصان؟ حضرت سیِّدُنا ابو موسٰی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَا لٰی عَنْہ نے کہا: نہیں، میں نے تو قرآن پڑھا اور لوگوں کوپڑھایا ہے ۔ حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: لیکن مجھے یہ پسند ہے کہ میرا عمل برابری کے طور پر مجھے چھٹکارا دلا دے ، مجھے اس سے کوئی فائدہ ہو نہ نقصان۔ یہ سن کر حضرت سیِّدُنا ابو بردہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے کہا: آپ کے والد میرے والد سے زیادہ سمجھدار ہیں۔
(10531)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ ” تم ضرور جان جاؤگے کہ افضل عبادت انکساری و تواضع ہے ۔ “
والد کو پانی پلانے کا اجر:
(10532)…(الف)حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ نبی رحمت، ساقی کوثر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے اپنی چھوٹی عمر میں اپنے والد کو ایک مرتبہ پانی پلایا اللہ عَزَّ وَجَلَّ بروزِ قیامت اسے آبِ کوثر سے 70مرتبہ پلائے گا۔ (4)
________________________________
1 - مسند الفردوس، ۱ / ۳۴۱، حدیث: ۲۵۰۰
2 - طبقات ابن سعد، ذكر رعية رسول الله صلى الله عليه وسلم الغنم بمكة، ۱ / ۱۰۱
3 - طبقات ابن سعد، ذكر رعية رسول الله صلى الله عليه وسلم الغنم بمكة، ۱ / ۱۰۱
4 - جمع الجوامع ، ۷ / ۱۷۶، حدیث: ۲۲۱۱۰