Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
265 - 361
حسین صورت اور عمدہ خوشبو میں  لایا جائے گا، اس کی خوشبو صرف مسلمان ہی سونگھ پائے گا۔ کافر کہے گا: ہائے میری خرابی!تیرے پاس وہ آئے جو یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں عمدہ خوشبو آرہی ہے جبکہ ہمیں نہیں آرہی۔ توبہ ان کافروں کو مخاطب کر کے کہے گی:  اگر تم دنیا میں مجھے قبول کر لیتے تو آج میں تمہیں  معطر کر دیتی۔ کافرکہے گا: میں تجھے ابھی قبول کرتا ہوں۔ اس وقت آسمان سے فرشتہ ندا دے گا: اگر تم ساری دنیا، تمام سونا چاندی اور دنیا کی  ہر چیز پیش کر دو تب بھی تمہاری توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ پھر تو بہ ان سے دور ہو جائے گی اور فرشتے بھی ان سے دور ہوجائیں گے پھر ان کے پاس جہنم پر مامور فرشتے آئیں گے اور جس میں عمدہ خوشبو پائیں گے اسے چھوڑ دیں  گے اور جس میں نہ پائیں گے اسے جہنم میں ڈال دیں گے ۔ (1)
والدین کی خدمت جہاد ہے : 
(10504)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضورنَبِیِّ اَکرم، نور مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس حہاد کی اجازت لینے آیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا:   ” کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟ “ اس نے عرض کی:  ” جی ہاں۔  “ ارشاد فرمایا:   ” تمہارا جہاد ان کی خدمت میں ہے ۔  “ (2)
(10505)…حضرت سیِّدُناعبداللہبن عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ آقائے دوجہان، رحمَتِ عالمیانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ” رات کی نمازدودورکعتیں ہیں(3)اوراگرتمہیں صبح کااندیشہ ہو تو(دو رکعتوں کے ساتھ ملا کر)ایک رکعت اور پڑھ لو(جواس نمازکوطاق بنادے گی)(4)۔  “ (5)
ایک دعائے نبوی: 
(10506)…حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدعامیں یوں کہاکرتے تھے :  ” اَللّٰهُمَّ اٰتِنَامِنۡ فَضۡلِكَ وَلَاتَحۡرِمۡنَارِزۡقَكَ وَبَارِكۡ لَنَافِيۡمَارَزَقۡتَنَا وَاجۡعَلۡ غِنَانَا فِیۡ اَنۡفُسِنَا وَاجۡعَلۡ رَغۡبَتَنَا فِيۡمَا عِنْدَكَ یعنی اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! ہمیں اپنا فضل عطا فرما، ہمیں اپنی عطا سے محروم نہ کرنا اور جو تو نے ہمیں عطا کیا ہے اس میں برکت عطافرما، ہمیں دل کی تونگری اور جو تیرے پاس ہے اس کا شوق عطا فرما۔  “ (6)
 (10507)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضورنَبِیِّ مُحْتَشَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: جورضائے الٰہی کی خاطر حج کے لیے نکلااللہ عَزَّ  وَجَلَّاس کے اگلے پچھلے تمام گناہ بخش دیتا ہے اور جس کے لیے وہ دعاکرے اس کے حق میں اِس کی سفارش قبول کی جاتی ہے ۔ (7)
تبرک کا احترام: 
(10508)…حضرت سیِّدُناابو جُحَیْفَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضورنَبِیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دوپہر کے وقت وادی بطحا تشریف لے گئے ، پانی لایا گیا تو آپ نے وضو کیا۔ لوگ آپ کے وضو کے بچے ہوئے پانی کو لینے لگے اور اسے اپنے اوپر ملنے لگے پھرآپ نے ظہر  اور عصر کی دودورکعتیں پڑھیں۔ (8)
(10509)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عرفات سے روانہ ہوئے تو آپ کے پیچھے حضرت اُسامَّہ بن زید اور حضرت فضل بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ بیٹھے ہوئے تھے ، میں نے صبح سے سواری کو درمیانی رفتار سے ہی چلتے دیکھا یہاں تک کہ مِنیٰ پہنچ گئے ۔ 
نماز میں شک ہو توکَیاکِیا جائے ؟
(10510)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی  ہے کہ پیارے آقا، میٹھے مصطفٰے صَلَّی  اللہُ تَعَا لٰی  عَلَیْہِ وَاٰ  لِہٖ  وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   جب تم میں سے کوئی نماز میں شک کرے تو درستی تلاش کرے پھر دو سجدے (سہو  کے ) کرے ۔ (9)
(10511)…حضرت سیِّدُناقُطْبَہ بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے متعلق کوئی بات کہی تو حضرت سیِّدُنازید بن ارقم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان سے کہا:  کیا آپ کو معلوم نہیں کہرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فوت شدہ لوگوں کو بُرا کہنے سے منع فرمایا ہے تو پھر تم امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے متعلق غلط بات کیوں کہتے ہوجبکہ وہ وصال فرماچکے ہیں۔ (10)
شفاعت سے محرومی: 


________________________________
1 -   الموضوعات لابن جوزی، ۳ / ۱۱۹
2 -   معجم اوسط، ۲ / ۸، حدیث: ۲۳۱۰، عن عبد اللّٰه بن عمر
3 -   یعنی بہتر یہ ہے کہ نمازِ تہجد دو دو رکعتیں پڑھے ، چار چار یا زیادہ کی نیت نہ باندھے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۲ /  ۲۶۹)
4 -   اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ ایک رکعت دورکعتوں کے ساتھ پڑھے یہ ایک رکعت تمام نمازکوطاق بنادے گی یہ مطلب نہیں کہ علیحدہ ایک رکعت پڑھے ۔ یہاں وترلغوی معنی میں ہے یعنی ساری تہجدکووتر(طاق)بنانے والی وہ ایک رکعت ہے جودوکے ساتھ ملادی جائے یہ مطلب نہیں کہ وترایک ہی رکعت ہوتی ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۲ /  ۲۶۹، ملتقطًا)
5 -   مسلم، کتاب صلاة المسافرین، باب صلاة اللیل مثنی   الخ، ص۳۷۷،  حدیث: ۷۴۹
6 -   مسند الفردوس ، ۱ / ۴۸۲، حدیث: ۱۹۷۲
7 -   بشارة المحبوب بتكفير الذنوب، الحجاج اھل المغفرة والرحمة، ص۴۵، حدیث: ۱۱۶
8 -   بخاری، کتاب الوضوء، باب استعمال فضل وضوء الناس، ۱ / ۸۸، حدیث: ۱۸۷
9 -   ابن ماجہ، کتاب اقامة الصلاة، باب ما جاء فيمن شك فی صلاته فتحرى الصواب، ۲ / ۶۵، حدیث: ۱۲۱۲
10 -   مسند عبد اللّٰہ بن المبارک، باب من الفتن، ص۱۵۶، حدیث: ۲۵۳