Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
263 - 361
پاک ہے جو عرشِ عظیم کا مالک ہے ، اے اللہ! مجھ پر رحم فرما، میری  خطاؤں سے درگزر فرما، مجھے معاف فرما، بے شک تو معاف کرنے والا  بخشنے والا ہے ۔  پھر فرمایا:  مجھے میرے چچا حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے یہ کلمات سکھائے اور انہیں حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ کلمات سکھائے تھے ۔ 
(10485)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ یعنی ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ (1)
کبھی عہدہ نہ مانگنا: 
(10486)…حضرت سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن سَمُرَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بیان ہے کہ مکی مدنی سلطان، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  اے عبد الرحمٰن! کبھی منصب طلب نہ کرنا۔ (2)
(10487)…حضرت سیِّدُنا قُرَّہ بن اِیَاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: اِذَافَسَدَاَهْلُ الشَّامِ فَلَاخَيْرَ فِيْكُمْیعنی جب اہْلِ شام خراب  ہو گئے تو تم میں کوئی خیر نہ ہو گی۔ (3)
ہر ایک کو اپنے عمل کا حساب دینا ہے : 
(10488)…حضرت سیِّدُناابُورِمْثَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس گھر (بَیْتُاللہ)کے سائے میں تشریف فرما تھے ، اس وقت آپ کی مبارک زلفیں کانوں کی لو کو چھو رہی تھیں، آپ نے دو سبز چادریں پہنی ہوئی تھیں، آپ نے ارشاد فرمایا:  کیا یہ تمہارا بیٹا ہے ؟ والد صاحب نے عرض کی:  جی ہاں۔ ارشاد فرمایا:  تمہارے جرم میں اس کی اور اس کے جرم میں تمہاری پکڑ نہ ہو گی۔ یہ فرمانے کے بعدآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میرے والد کے ساتھ میری مشابہت دیکھی تو خوش ہو کر مسکرانے لگے ۔ (4)
(10489)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرورِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک قربانی کے اونٹ کے پاس سے گزرے تو اس کے مالک یا چلانے والے سے ارشاد فرمایا:  اس پر سوار ہو جاؤ۔ اس نے عرض کی: یہ تو قربانی کا اونٹ ہے ۔ ارشاد فرمایا: افسوس ہے تم پر! ارے سوار ہو جاؤ(5)۔  “ (6)
اولیاءُ اللہ کی پہچان: 
(10490)…حضرت سیِّدُناابوسعیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ، قرار قلب و سینہ، باعث نُزولِ سکینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ میں عرض کی گئی:   ” اولیاءُاللہ کون ہیں؟ “ ارشاد فرمایا:   ” وہ جنہیں دیکھ کر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ یاد آجائے ۔  “ (7)
(10491)…بنو عذرہ کے ایک شخص کا بیان ہے کہ اس نے حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو حج و عمرے کاایکساتھتلبیہ کہتے ہوئے سنا۔ حضرت سیِّدُنامسعربن کدامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیںکہمیںنے حضرت سیِّدُنابُکَیْررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا:  کیا حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے حج و عمرہ کے لئے طواف وسعی دو دو مرتبہ کی تھیں؟  تو انہوں نے جواب دیا:  جی ہاں۔ ایک روایت میں اتنا زائد ہے کہ حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:  میں نے رَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے ۔ 
امام نماز مختصر پڑھائے : 
(10492)…حضرت سیِّدُناانسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورنَبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سب سے زیادہ مختصر ومکمل نماز پڑھانے والے تھے ۔ (8)
(10493)…حضرت سیِّدُنا بَراء بن عَازِبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ ہم(نماز میں)رَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دائیں جانب کھڑے ہونے کو پسند کرتے تھے ۔ میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ دعا کرتے سنا: رَبِّ قِنِيْ عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ یعنی اے میرے پروردگار! تو مجھے اس دن اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا جس دن تو اپنے بندوں کو دوبارہ اُٹھائے گا۔ (9)


________________________________
1 -   ابن ماجہ، کتاب الاشربة، باب مااسکر کثیرہ فقلیلہ حرام، ۴ / ۶۹، حدیث: ۳۳۹۲
2 -   بخاری، کتاب الایمان والنذور، باب قول اللّٰہ تعالی، ۴ / ۲۸۱، حدیث: ۶۶۲۲
3 -    مسند امام احمد، حدیث معاویة بن قرة، ۵ / ۳۰۵، حدیث: ۱۵۵۹۶
4 -   ابو داود، کتاب الدیات، باب لایؤاخذ احد   الخ ، ۴ / ۲۲۳، حدیث: ۴۴۹۵، بتغیر
5 -   حضرت سیِّدُناجابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہرسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: جب تومجبورہو جائے توہدی پر معروف طریقے پرسوار ہو، جب تک دوسری سواری نہ ملے ۔ (مسلم، کتاب الحج، باب جواز رکوب البدنة ...الخ، ص۶۸۸، حدیث:  ۱۳۲۴)۔ ہَدی کے جانور پر بلا ضرورت سوار نہیں ہو سکتا نہ اس پر سامان لاد سکتا ہے اگرچہ نفل ہو اور ضرورت کے وقت سوار ہوا یا سامان لادا اور اس کی وجہ سے اُس میں کچھ نقصان آیا تو اتنا محتاجوں پر تصَدُّق کرے ۔ (بہارشریعت، حصہ۶، ۱ /  ۱۲۱۴)
6 -   بخاری، کتاب الوصایا، باب ھل ینتفع الواقف بوقفہ، ۲ / ۲۳۸، حدیث: ۲۷۵۴
7 -   مسند البزار، مسند ابن عباس، ۱۱ / ۲۵۱، حدیث: ۵۰۳۴، عن ابن عباس
8 -   مسلم، کتاب الصلاة، باب امرالائمة بتخفيف الصلاة فی تمام، ص۲۴۴، حدیث: ۴۶۹
9 -   مسند امام احمد، حدیث البراء بن عازب، ۶ / ۴۴۸، حدیث: ۱۸۷۳۶