Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
262 - 361
فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا(۲۵) (پ۱۵، بنیٓ اسرآئیل: ۲۵)	ترجمۂ کنز الایمان: تو بیشک وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے ۔ (1)
(10475)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنے ہاتھ سے خوشبو لگائی، پھرآپ نے اپنی ازواجِ مطہرات کاحَقِّ زوجیت ادا کیا اور پھر حالَتِ احرام میں صبح کی۔ (2)
غیرنافع علم کی مثال: 
(10476)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور صاحِبِ لولاک، سیاحِ اَفلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  جس علم سے نفع نہ اٹھایا جائے وہ اس خزانے کی طرح ہے جسے راہِ خدا میں خرچ نہ کیا جائے ۔ (3)
جنت واجب کرنے والا عمل: 
(10477)…حضرت سیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہشَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  جس کا جنازہ 100مسلمان  پڑھیں اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔ (4)
	حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنی سند سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ ایک جنازے کی تعریف کی گئی تو ّآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: (جنت) واجب ہوگئی، تم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے گواہ ہو۔ (5)
(79-10478)…حضرت سیِّدُناعبداللہبن عَمْرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ جوغلے کی تجارت کرتا ہو، اس کے علاوہ کوئی تجارت نہ کرے تو غلطی کرے گا یا ظلم کرے گا۔ (6)
آخرت کے مقابلے میں دنیا: 
(10480)…حضرت سیِّدُنا مُسْتَوْرِد بن شَدَّادرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حبیب، حبیْبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  آخرت کے مقابلے میں دنیا ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ انگلی کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے ؟(7)
سیِّدُنا عدی بن حاتم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ: 
(10481)…حضرت سیِّدُناعدی بن حاتمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ میں نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمربن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس جاکرعرض کی:  ” امیرالمؤمنین!کیاآپ مجھے نہیں جانتے ؟‘‘فرمایا:  ” کیوں! نہیں، تم اس وقت ایمان لائے جب لوگ کافر تھے ، تم نے اس وقت اسلام قبول کیا جب لوگوں نے  پیٹھ پھیر لی تھی اور تم نے اس وقت وفا کی جب لوگوں نے بے وفائی کی۔ ‘‘ ایک روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے :   ” خدا تم کو سلامت اور خوش رکھے تم اسلام لائے جب لوگ کافر تھے ۔  “ (8)
(10482)…حضرت سیِّدُنا لَقِیط بن صَبْرَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ رسول اکرم، نبی معظمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  جب تم ناک میں پانی چڑھاؤ تو مبالغہ کرو  مگر روزے میں ایسا نہیں کرنا۔ (9)
(10483)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک شخص سے فرمایا:  اے فلاں!تم نے صبح کیسے کی؟ اس نے کہا:  اَحْمَدُ اللهَ یعنی میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حمد کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا:  میں نے اسی لئے تمہارا حال پوچھا تھا۔ 
 	حضرت سیِّدُنا سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن فرماتے ہیں کہ حضرات صحابَۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن آپس میں خیر خیریت معلوم کرتے رہتے تھے حالانکہ ایک دوسرے سے جُدا نہیں ہوئے ہوتے تھے ۔ 
بیمارکے لیے وظیفہ نبوی: 
(10484)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناعبداللہ  بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بیمار بیٹے  ” صالح “ کے پاس آکر فر مایا کہ یہ کلمات پڑھو:  لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ الْحَلِيْمُ الْكَرِيْمُ سُبْحٰنَ اللهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ اَللّٰهُمَّ ارْحَمْنِيْ اَللّٰهُمَّ تَجَاوَزْعَنِّيْ اَللّٰهُمَّ اعْفُ عَنِّيْ فَاِنَّكَ عَفُوٌّ غَفُوْرٌیعنی اللہ عَزَّ    وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں جو حلم و بزرگی والا ہے ، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ 


________________________________
1 -   شعب الایمان، باب فی الصلوات، فضل الاذان و الاقامة ، ۳ / ۱۲۳، حدیث: ۳۰۷۳، عن علی
2 -   معجم اوسط، ۱ / ۸۳، حدیث: ۲۳۷
3 -   تاریخ ابن عساکر، ۲۷ / ۶۸، رقم:  ۳۱۸۰، حدیث:  ۵۷۴۵عبد اللّٰہ بن ابراھیم بن یوسف
4 -   ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ماجاء فیمن صلی علیہ جماعة من المسلمين، ۲ /  ۲۱۳، حدیث: ۱۴۸۸، بتغیر
5 -   مسند امام احمد، مسند انس بن مالک، ۴ / ۳۹۳، حدیث: ۱۳۰۳۸، بتغیر قلیل
6 -   شرح السنة، کتاب البیوع، باب الاحتکار، ۴ / ۳۳۳، تحت الحدیث:  ۲۱۲۱
7 -   البعث والنشور للبیھقی، باب قول الله عزوجل:  يوم يأت لا تكلم   الخ، ص۳۳۴، حدیث: ۶۰۷ 
8 -   مسند البزار، ومما روى عمرو بن شرحبیل عن عمر، ۱ / ۴۶۹، حدیث: ۳۳۶
9 -   مسند امام احمد، حدیث لقیط بن صبرة، ۵ / ۵۱۷، حدیث: ۱۶۳۸۰