پورا رمضان با جماعت نماز کی فضیلت:
(10463)…حضرت سیِّدُناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ” جس نے رَمَضانُ المبارک کے شروع سے آخر تک با جماعت نمازیں ادا کیں اس نے شب ِقدر سے اپنا حصہ پا لیا۔ “ (1)
(10464)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرورِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص کو قربانی کا اونٹ ہانکتے دیکھا تو ارشاد فرمایا: ” اس پر سوار ہو جاؤ۔ “ اس نے عرض کی: ” یہ تو قربانی کا اونٹ ہے ۔ “ ارشاد فرمایا: ” افسوس ہے تم پر! ارے سوار ہو جاؤ(2)۔ “ (3)
گوشت کا بہترین حصہ:
(-6610465)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ رسولِ پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: بہترین گوشت یا (فرمایا: )پاکیزہ گوشت پیٹھ کا گوشت ہے ۔ (4)
(10467)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ جو اپنا سر امام سے پہلے اٹھالیتا ہے کیا وہ اس سے نہیں ڈرتا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کا سر کتے کا سرکر دے ؟
(10468)…حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں: رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لیے ایک برتن میں نبیذ بنائی جاتی تھی۔ (5)
(10469)…حضرت سیِّدُنا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور رحمتِ عالَم، نورِ مجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: سفرمیں مرنے والا شہید ہے ۔ (6)
غیب دان نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:
(10470)…حضرت سیِّدُنا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ نبی غیب دان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم (مُزدَلِفَہ سے ) انتہائی سکون و اطمینان کے ساتھ روانہ ہوئے اور لوگوں کو بھی سکون کا حکم دیا اور وادی مُحَسِّر میں سواری کوتیز کردیااورانہیں حکم دیا کہ چھوٹی چھوٹی کنکریوں سے رمی کریں اور فرمایا: تم لوگ مناسک حج سیکھ لو شاید میں اس سال کے بعد حج نہ کروں۔ (7)
سجدے کا سنت طریقہ:
(10471)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: سجدے میں اپنے ہاتھ درندے کی طرح نہ بچھاؤاور اپنی ہتھیلیوں پر ٹیک لگا کر اپنے بازو پہلوؤں سے جدا رکھو، کیونکہ اگر تم نے ایساکیا تو تمہارے ہر عضو نے سجدہ کر لیا۔ (8)
(10472)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن ابواوفیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے : ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کون سی چیز میرے لئے قرآن جیسے ثواب کا ذریعہ ہے ؟ ارشاد فرمایا: ” سُبْحٰنَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاللهُ اَكْبَر یعنی اللہ پاک ہے اور تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ سب سے بڑا ہے ۔ “ اس شخص نے عرض کی: یہ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے (حمد و ثنا) ہے ، میرے لئے کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا کہ تم یوں کہا کرو: ” اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ وَارْحَمْنِیْ وَاهْدِنِيْ وَعَافِنِيْیعنی اے اللہ! مجھے معاف فرما، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت اور عافیت نصیب فرما۔ “ (9)
بہترین بندے :
(10473)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن ابو اوفیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بہترین بندے وہ ہیں جوسورج اور نئے وپرانے چاند پراللہ عَزَّ وَجَلَّکی یاد کے لیے نظر رکھتے ہیں۔ (10)
(10474)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن ابو اوفیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رحمتِ دوعالَم، نُوْرِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جب سائے ڈھلنے لگیں اور ہوائیں چلنے لگیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں اپنی حاجتیں پیش کرو کیونکہ وہ توبہ کرنے والوں کا وقت ہے (جن کے متعلق ارشادفرمایا: )
________________________________
1 - تاریخ بغداد، ۴ / ۳۱۲، رقم: ۲۰۴۹، احمد بن الحسن بن محمد، بتغیر قلیل
2 - قربانی کے جانور پر مجبوراً و ضرورۃً سوار ہونا جائز، بلا ضرورت منع ہے ۔ (ماخوذ از مراٰۃ المناجیح، ۴ / ۱۶۰)
3 - بخاری، کتاب الادب، باب ماجاء فی قول الرجل: ویلک، ۴ / ۱۴۴، حدیث: ۶۱۵۹
4 - ابن ماجہ، کتاب الاطعمة، باب اطایب اللحم، ۴ / ۳۰، حدیث: ۳۳۰۸، شعب الایمان، اكل اللحم ، ۵ / ۸۹، حدیث: ۵۸۹۱
5 - مسلم، کتاب الاشربة، باب النهی عن الانتباذ فی المزفت الخ، ص۱۱۰۶، حدیث: ۱۹۹۹
6 - الکامل لابن عدی، ۵ / ۳۶۵، رقم: ۱۰۲۵، عبد اللّٰہ بن محمد بن المغیرة
7 - نسائی، کتاب مناسک الحج، باب الرکوب الی الجمار واستظلال المحرم، ص۴۹۷، حدیث: ۳۰۵۹
سنن کبری للنسائی، کتاب الحج، باب الامر بالسکینة، ۲ / ۴۲۵، حدیث: ۴۰۱۶
8 - صحیح ابن خزیمة، کتاب الصلاة، باب الاعتدال فی السجود والنهی الخ ، ۱ / ۳۲۵، حدیث: ۶۴۵
9 - مسند امام احمد، بقیة حدیث عبد اللّٰه بن ابی اوفی، ۷ / ۵۲، حدیث: ۱۹۱۵۹
10 - سنن کبری للبیھقی، کتاب الصلاة، باب مراعاة ادلة المواقيت، ۱ / ۵۵۸، حدیث: ۱۷۸۱