حجام کی خدمت بلاعوض نہ لی:
(10457)…جُنَیْدحجام کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اوپری منزل سے میرے پاس آتے ، ان کے پاس پانی سے بھری چھوٹی صراحی اور روٹی ہوتی، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے : اے جُنَیْد! اس روٹی کے بدلے میرے بال کاٹ دو، مونچھیں تراش دو، داڑھی کا خط بنا دو، گُدّی صاف کردو اور پچھنے بھی لگا دو۔ تو میں کہتا: ابو سلمہ! اس روٹی کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ فرماتے : کیوں نہیں، کیا تم میری بات مانتے ہو یا نہیں؟ میں کہتا: ٹھیک ہے ، پھر میں روٹی لے لیتا اور آپ کے بال کترتا، مونچھیں تراشتا، گدّی صاف کرتا، داڑھی کا خط بناتا اور پچھنے بھی لگاتا۔ بعدِفراغت آپ فرماتے : یہ صُراحی مجھ پر انڈیل دو پھر وہ اپنے پچھنے والی جگہ دھو کر چلے جاتے ۔
(10458)…حضرت سیِّدُناابونُعَیْم اَحْوَلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: جب ہم حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا جنازہ لے کر چلے تو سرِ راہ میں نے خود پسندی میں مبتلا ہو کرکہا کہ لوگ میرے پاس آ کر حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی احادیث کا سوال کیا کریں گے ، جب قبر تک پہنچا تو حضرت سیِّدُنا محمد بن بِشْر عَبْدی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ میرے پاس آ کر بیٹھ گئے اور حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی ایسی سترہ مرویات بیان کیں جن میں سے سوائے ایک کے میں نے کوئی روایت نہیں سنی تھی، (اور وہ روایت یہ ہے : ) حضرت سیِّدُناعُروَہ بن زُبَیْررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا: حضرت سیِّدُناعمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے وصال پر جنات نے نوحہ کیاتھا۔
آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: یہ حدیث میرے رجسٹروں میں موجودتھی مگر مٹ چکی تھی لہٰذا میں نے اسے حدیْثِ مسعر میں شامل نہ کیاپھر میں جنازے سے پیروکار بن کے لوٹا گویا مرغ نے مجھے ٹھونگ ماردی ہے ۔
سیِّدُنا مِسْعَر بن کِدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مرویات
حضرت سیِّدُنامسعربن کدامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے بڑے بڑے تابعینرِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنسے روایات لی ہیں جن میں وہ بھی شامل ہیں جن کانام پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نام کے مُوافِق ہے وہ حضرت سیِّدُناابوعون محمدبنعبداللہثَقَفیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیہیں جنہوں نے حضرت سیِّدُنا جابر بن سَمُرہ اورحضرت سیِّدُنا محمد بن حاطب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے احادیث روایت کی ہیں۔
فضیلتِ عثمان بزبانِ علی رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا:
(10459)…حضرت سیِّدُنامحمد بن حاطبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان بن عفان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا تذکرہ ہوا تو حضرت سیِّدُنا امام حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا: ابھی میرے والد آئیں گے وہ تمہیں بتائیں گے ۔ کچھ ہی دیر بعد حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم تشریف لائے اوران سے اس بارے میں پوچھا گیا توانہوں نے فرمایا: حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ان میں سے ہیں جن کے بارے میں فرمایا گیا:
اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْاؕ (پ۷، المآئدة: ۹۳)
ترجمۂ کنزالایمان: ایمان رکھیں اورنیکیاں کریں پھرڈریں اور ایمان رکھیں پھر ڈریں اور نیک رہیں اور اللہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے ۔
(10460)…حضرت سیِّدُناعبداللہ بن شَدَّاد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا: شراب کم ہو یا زیادہ اصلاً حرام ہے اور ہر نشہ آور مشروب بھی۔
میدانِ جنگ میں فرشتے :
(10461)…حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہرَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے غزوۂ بدرکے دن مجھ سے اورامیرالمؤمنین حضرت ابوبکرصدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے ارشاد فرمایا: ” تم میں سے ایک کی دائیں جانب جبرئیلعَلَیْہِ السَّلَاماوردوسرے کی دائیں جانب میکائیلعَلَیْہِ السَّلَام تھے اور ایک بہت بڑے فرشتے اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام بھی جنگ میں شریک اورصف میں موجود تھے ۔ “ (1)
والدین کا حق:
(10462)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سرکارِ مَکۂ مکرمہ، سلطانِ مدینہ منورہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں جہاد کی اجازت لینے حاضر ہوا توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے اِستفسار فرمایا: کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟اس نے عرض کی: جی ہاں ۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ان کی خدمت میں رہو(2)۔ “ (3)
________________________________
1 - مسند البزار، ومما روى ابو صالح الحنفی، عن علی بن ابی طالب، ۲ / ۳۰۳، حدیث: ۷۲۹
2 - مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمراٰۃ المناجیح، جلد5، صفحہ340پراس کے تحت فرماتے ہیں: غالب یہ ہے کہ اس کے ماں باپ کو اس کی خدمت کی حاجت تھی۔ وہ اکیلا بیٹا خدمت گار تھا اور جہاد اُس وقت فرضِ عین نہ تھا فرضِ کفایہ تھا، ایسی صورت میں ماں باپ کی خدمت جہاد پر مقدم ہے ۔ اگر یہ دونوں صورتیں نہ ہوں تو جہاد مقدم ہے ۔ مزید فرماتے ہیں: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نفلی جہاد کے لیے بغیر والدین کی اجازت کے نہیں جانا چاہیے ۔ اگر جہاد فرض ہو تو بہتر ہے کہ ان سے اجازت لے لے لیکن اگر وہ اجازت نہ دیں تو بھی چلا جاوے ۔ اگر وہ منع کریں گے تو وہ گنہگار ہوں گے یہ حکم مؤمن والدین کے لیے ہے ۔ کافر ماں باپ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں خواہ جہاد فرض ہویانفل۔ خیال رہے کہ مسلمان ماں باپ کی اجازت کے بغیرکسی نفلی عبادت کے لیے نہ جاوے جیسے نفلی حج، نفلی عمرہ، زیارت وغیرہ حتی کہ اگر مسلمان ماں باپ اجازت نہ دیں نفلی روزہ بھی نہ رکھے ۔
3 - بخاری، کتاب الجھاد والسیر، باب الجھاد باذن الابوین، ۲ / ۳۱۰، حدیث: ۳۰۰۴، عن عبد اللّٰہ بن عمرو، بتغیر