Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
259 - 361
گھر تو قبر ہی ہے : 
(10449)…حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ یہ شعر کہا کرتے تھے : 
وَمُشَيِّدٍ دَارًا لِيَسْكُنَ دَارَهٗ		سَكَنَ الْقُبُوْرَ وَدَارَهٗ لَمْ يَسْكُنِ
	ترجمہ: رہائش کے لئے  مضبوط گھر تعمیر کرنے والے قبر میں  چلے گئے اور اپنے گھر میں نہ رہ سکے ۔ 
بیٹے کو نصیحت: 
(51-10450)…حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے بیٹے کدام کو نصیحت کرتے ہوئے یہ اشعار کہے : 
اِنِّيْ مَنَحْتُكَ يَا كِدَامُ نَصِيْحَتِيْ		فَاسْمَعْ مَقَالَ اَبٍ عَلَيْكَ شَفِيْقِ
اَمَّا الْمُزَاحَةُ وَالْمِرَاءُ فَدَعْهُمَا		خُلُقَانِ لَا اَرْضَاهُمَا لِصَدِيْقِ
اِنِّيْ بَلَوْتُهُمَا فَلَمْ اَحْمَدْهُمَا		لِمُجَاوِرٍ جَارٍ وَّلَا لِرَفِيْقِ
وَالْجَهْلُ يُزْرِيْ بِالْفَتٰى فِيْ قَوْمِهٖ		وَعُرُوْقُهٗ فِي النَّاسِ اَيُّ عُرُوْقِ
	ترجمہ: (۱)…اے کدام! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں، اپنے مہربان والد کی بات غور سے سنو۔ (۲)…ہنسی مذاق اور جھگڑے سے باز رہنا ان عادتوں کو میں کسی دوست کے لئے اچھا نہیں جانتا۔ (۳)…میں نے ان عادتوں کو برتا ہے کسی پڑوسی یا ساتھی کی یہ عادتیں مجھے بالکل اچھی نہیں لگیں۔ (۴)…جہالت نوجوان کو اس کی قوم میں رسوا کر دیتی ہے چاہے اس کی جڑیں لوگوں میں کتنی ہی مضبوط ہوں۔ 
(10452)…ابوولید ضَبِّی کا بیان ہے کہ ایک انتہائی ضعیْفُ الْعُمْردیہاتی خم دار لاٹھی کا سہارا لیے حضرت سیِّدُنا مِسعَر بن کِدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس گیا، اس نے آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو نماز کی حالت میں پایا، حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی نماز لمبی ہوئی تو وہ تھک کر بیٹھ گیا، جب حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نماز سے فارغ ہوئے تو اس بوڑھے نے کہا:  نماز کے ارکان بقدر کفایت ہی ادا کر لیا کریں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  وہ بات کرو جو تمہیں نفع دے ، تمہاری عمر کتنی ہے ؟ اس نے کہا: میری عمر 110 سال سے کچھ زائدہے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  اس عمر کا کوئی حصہ تمہارے لیے نصیحت بھی بنا ہے ، اپنے اوپر غور کر لو۔ اس پر اس نے یہ اشعار کہے : 
اُحِبُّ اللَّوَاتِيْ فِيْ صِبَاهُنَّ غُرَّةٌ		وَفِيْهِنَّ عَنْ اَزْوَاجِهِنَّ طِمَاحُ
مُسِرَّاتُ حُبٍّ مُظْهِرَاتُ عَدَاوَةٍ		تَرَاهُنَّ كَالْمَرْضَى وَهُنَّ صِحَاحُ
	ترجمہ:  مجھے وہ عورتیں پسند ہیں جن کی آنکھوں میں چمک ہو اور اپنے خاوند سے دوری برتیں، محبت دل میں چھپائیں اور ناگواری کا اظہار کریں، وہ تمہیں مریض دکھائی دیں گی حالانکہ وہ تندرست  ہوں گی۔ 
	حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  کیا تمہارے لئے اسی کام میں فضیلت ہے ؟اس نے کہا:  بخدا! تمہارے بھائی نے 40دن سے تو کوئی حرکت نہیں کی مگر یہ کہ وہ ایک جھاگ پھینکتا سمندر ہے ۔ اس کی بات سن کر حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مسکرانے لگے اور فرمایا:  اشعار اچھے بھی ہیں اور برے بھی اوریہی عرب کا دیوان ہیں۔ 
(10453)…حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  
وَلَمْ اَرَ كَالدُّنْيَا بِهَا اغْتَرَّ اَهْلُهَا		وَلَا كَالْيَقِيْنِ اسْتَوْحَشَ الدَّهْرَ صَاحِبُهْ
وَلَا كَالَّذِيْ يَخْشَى الْمَلِيْكُ عِبَادَهٗ		مِنَ الْمَوْتِ خَافَ الْبُؤْسَ اَوْ نَامَ هَارِبُهْ
	ترجمہ: (۱)…اور میں نے دنیا جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی کہ جس کے چاہنے والے اُس سے دھوکا کھاتے ہوں اورنہ ایسا  یقین دیکھا کہ یقین والا زمانے سے وحشت زدہ ہو۔ (۲)…اور نہ ہی یہ دیکھا کہ بادشاہ غلاموں سے ڈرتا ہو، غربت سے ڈرنا یا اِس سے بچاؤ کرنے والے کا غافل ہونا بھی موت ہے ۔ 
مریض مریض کی عیادت کیسے کرے ؟
(10454)…ابو ولید ضَبِّی کا بیان ہے کہ ہم حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آئے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نماز پڑھ رہے تھے ، جب انہیں ہماری موجودگی کا احساس ہواتو نماز مختصر کر کے ہماری جانب متوجہ ہوئے اور یہ شعر کہنے لگے :  
اَلَا تِلْكَ غِرَّۃٌ قَدْ اَعْرَضْتَ 		تَرْفَعُ دُوْنِيَ طَرْفًا غَضِيْضَا
تَقُوْلُ مَرِضْتُ فَمَا عُدْتَنَا		وَكَيْفَ يَعُوْدُ مَرِيْضٌ مَرِيْضَا؟
	ترجمہ: کیا وہ  دھوکا نہیں ہے جو تم نے کیا؟ میرے سوا ہر ایک کو جھکے  پپوٹے اٹھا کر بھی دیکھ لیا اور شکوہ کرتے ہو کہ میں بیمار ہوا تم نے میری عیادت نہ کی ، مریض مریض کی عیادت کیسے کر سکتا ہے ؟ 
(10455)…حضرت سیِّدُناسعد بن صلت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک سپاہی کو کسی پر ظلم کرتے دیکھا توگھر کی چھت پر گئے جا کر اس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا:  اے اللہ کے بندے ! تو ظالم ہے ۔ سپاہی نے کہا:  اگرسچے ہو تو نیچے آؤ ذرا۔ 
خودداری: 
(10456)…حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَا  لٰی عَلَیْہ میرے پاس آئے اورایک شخص کے بارے میں کلام کرنے لگے جسے میں حدیث بیان کرتاتھا، میں نے کہا: ابوسلمہ! آپ کسی کوہمارے پاس بھیج دیتے ۔ توآپرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہنے فرمایا: حاجت توہمیں تھی(پھر کسی اور کو کیوں بھیجتے )۔ 
	مزید فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس تھا ، آپ نے ایک شخص کواعلیٰ قسم کاعمدہ لباس پہنے ہوئے دیکھاتوفرمایا: کیاتم اصحابِ حدیث میں سے ہو۔ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا:  جو حدیث طلب کرنے والا ہو اس کی یہ حالت نہیں  ہوتی۔