شان میں یہ ا شعار سنائے :
مَنْ كَانَ مُلْتَمِسًا جَلِيْسًا صَالِحًا فَلْيَاْتِ حَلْقَةَ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامِ
فِيْهَا السَّكِيْنَةُ وَالْوَقَارُ وَاَهْلُهَا اَهْلُ الْعَفَافِ وَعِلِّيَّةُ الْاَقْوَامِ
ترجمہ: جو نیک ہم نشیں کا متلاشی ہووہ حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مجلس میں آجائے جس میں سکون و وقار ہے اور وہاں بیٹھنے والے نیک اوربلنددرجہ لوگ ہوتے ہیں۔
(10442)…حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے یہ شعرکہے :
لَنْ يَّلْبَثَ الْقُرَنَاءُ اَنْ يَتَفَرَّقُوْا لَيْلٌ يَّكُرُّ عَلَيْهِمُ وَنَهَارُ
ترجمہ: ساتھی ایک دوسرے سے جُداہونے میں ہرگز توقُّف نہیں کرتے وہ رات اوردن ہیں جوپلٹ پلٹ کران پر آتے رہتے ہیں۔
ایک اعرابی کے اشعار:
(10443)…حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے بیان کیا کہ وہ ایک دن جنگل کی طرف گئے تو وہاں ایک اعرابی دھوپ میں بیٹھا یہ اشعار کہہ رہا تھا:
جَاءَ الشِّتَاءُ وَلَيْسَ عِنْدِيْ دِرْهَمُ وَلَقَدْ يُخَصُّ بِمِثْلِ ذَاكَ الْمُسْلِمُ
قَدْ قَطَّعَ النَّاسُ الْجِبَابَ وَغَيْرَهَا وَكَاَنَّنِيْ بِفِنَاءِ مَكَّةَ مُحْرِمُ
ترجمہ: سردی کا موسم آگیا اور میرے پاس ایک درہم بھی نہیں اور مسلمان اس جیسی چیز (یعنی مال) سے مفلس ہوتا ہے ۔ لوگوں نے جبے وغیرہ کاٹ کر الگ لیے ہیں جبکہ میں گویا کہ صحن مکہ میں حالتِ احرام میں ہوں۔
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس کے اشعار سن کر اپنا جبہ اُتارا اور اسے دے دیا۔
درسِ قناعت:
(45-10444)…حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک مرتبہ یہ اشعار کہے :
اَقْبَلْ مِنَ الدَّهْرِ مَا اَتَاكَ بِهِ وَاصْبِرْ لِرَيْبِ الزَّمَانِ اِنْ عَثَرَا
مَا لِاِمْرِئٍ فَوْقَ مَا يَجْرِي الْقَضَاءُ بِهِ فَالْهَمُّ فَضْلٌ وَخَيْرُ النَّاسِ مَنْ صَبَرَا
يَا رُبَّ سَاعٍ لَهُ فِيْ سَعْيِهٖ اَمَلٌ يَفْنٰى وَلَمْ يَقْضِ مِنْ تَاْمِيْلِهٖ وَطَرَا
مَا ذَاقَ طَعْمَ الْغِنَى مَنْ لَا قُنُوْعَ لَهٗ وَلَنْ تَرَى قَنِعًا مَا عَاشَ مُفْتَقِرَا
وَالْعُرْفُ مَنْ يَاْتِهٖ تُحْمَدُ عَوَاقِبُهٗ مَا ضَاعَ عُرْفٌ وَّاِنْ اَوْلَيْتَهٗ حَجَرَا
ترجمہ: (۱)…زمانے میں جو کچھ درپیش ہو اس کا سامنا کر اور حوادثِ زمانہ کی وجہ سے ٹھوکر کھا چکا ہے تو صبر کر۔ (۲)… کوئی شخص تقدیر سے ما ورا نہیں پس رنج و غم تو فضل ہیں اوربہترین انسان وہی ہے جو صبر کرے ۔ (۳)…بہت سے کوشش کرنے والوں کی کوشش میں ختم ہونے والی امید ہوتی ہے لیکن وہ اپنی امید میں سے کوئی ضرورت پوری نہیں کر پاتے ۔ (۴)…قناعت نہ کرنے والا غنا کی لذت نہیں پا سکتا اور تم اسے قناعت والا ہر گز نہ پاؤ گے جس نے فقر کی زندگی نہیں گزاری۔ (۵)…جو بھی بھلائی کرے اس کا انجام اچھا ہی ہوتا ہے ، بھلائی ضائع نہیں ہوتی اگرچہ تم پتھر کے ساتھ کرو۔
غافلوں کو نصیحت:
(10446)…حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:
نَهَارُكَ يَا مَغْرُوْرُ سَهْوٌ وَّغَفْلَةٌ وَّلَيْلُكَ نَوْمٌ وَّالرَّدَى لَكَ لَازِمُ
وَتَتْعَبُ فِيْمَا سَوْفَ تَكْرَهٗ غِبَّهٗ كَذٰلِكَ فِي الدُّنْيَا تَعِيْشُ الْبَهَائِمُ
ترجمہ: (۱)…اے دھوکے میں مبتلا شخص! تیرا دن خطاؤں اور غفلتوں میں گزر رہا ہے جبکہ رات سوتے ہوئے ، تیری ہلاکت یقینی ہے ۔ (۲)…جس چیز میں تو مشغول ہے عنقریب اس کا انجام تجھے ناپسند ہو گا، چوپائے دنیا میں ایسی ہی زندگی جیتے ہیں۔
(10447)…حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:
تَفْنَى اللَّذَاذَةُ مِمَّنْ نَالَ صَفْوَتَهَا مِنَ الْحَرَامِ وَيَبْقَى الْاِثْمُ وَالْعَارُ
تَبْقَى عَوَاقِبُ سُوْءٍ مِنْ مَغَبَّتِهَا لَا خَيْرَ فِيْ لَذَّةٍ مِنْ بَعْدِهَا النَّارُ
ترجمہ: (۱)…جس نے خالصتاًحرام سے لذت پائی اس کامزہ ختم ہوجائے گاشرمندگی اورگناہ باقی رہ جائیں گے ۔ (۲)…انجام کار حرام کی سزائیں باقی رہ جاتی ہیں، اس لذت میں کوئی بھلائی نہیں جس کے بعد جہنم ہو۔
جنازے میں اشعار:
(10448)…حضرت سیِّدُنامسعربن کدامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجنازے میں اکثر یہ اشعار کہا کرتے تھے :
وَ تُحْدِثُ رَوْعَاتٌ لَدَى كُلِّ فَزْعَةٍ وَنُسْرِعُ نِسْيَانًا وَلَمْ يَاْتِنَا اَمْنُ
فَاِنَّا وَلَا كُفْرَانَ لِلَّهِ رَبِّنَا کَمَا الْبُدْنُ لَا تَدْرِيْ مَتَى يَوْمُهَا الْبُدْنُ
ترجمہ: (۱)… ہر ہلاکت کے وقت گھبراہٹیں پیدا ہو جاتی ہیں پھر ہم بڑی جلدی بھول جاتے ہیں حالانکہ ہمارے پاس امان نہیں آئی ہوتی۔ (۲)…ہماری مثال قربانی کے جانوروں کی سی ہے جنہیں اپنی قربانی کے دن کا پتا نہیں ہوتا پس ہمیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناشکری نہیں کرنا چاہئے جو ہمارا رب ہے ۔