Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
257 - 361
ذِکْرُ اللہ کی  برکت: 
(10427)…حضرت سیِّدُنااِبْنِ سماکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو خواب میں دیکھ کر پوچھا:  کیا آپ کا وصال نہیں ہوگیا؟ انہوں نے فرمایا:  کیوں نہیں۔ میں نے پوچھا:  آپ نے کون سے عمل کو سب سے زیادہ نفع مند پایا؟ فرمایا:  اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے ذکرکو۔ 
(10428)…حضرت سیِّدُنا سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن کا بیان ہے کہ میں حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس فقط وعظ سننے کی غرض سے جایا کرتا تھا، جب مغرب کا وقت ہو جاتا تو میں ان سے کہتا:  کاش! آپ مزید گفتگو فرماتے ۔ تو آپ فرماتے :  اگر تم مجھ سے کچھ نہ کہتے تو یہ مجھے زیادہ پسند ہوتا ، مجھے پسند نہیں کہ تم مجھے ذکر اللہ کے لئے کہو اور میں نہ کروں۔ 
(10429)…حضرت سیِّدُنا قَبِیْصہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنامِسْعربن کِدامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو ان کی ڈاڑھ کھینچ کر نکال لینا کسی حدیث کا پوچھنے سے زیادہ پسندتھا۔ 
ملاقات پر طواف کو ترجیح: 
(10430)…حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  میں مَکۂ مکرمہ آیا تو وہاں حضرت امام زہری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بھی تھے ، میں شش وپنج میں پڑ گیا کہ ان سے ملاقات کروں یا طواف؟ پھر میں نے ان سے ملاقات کے بجائے طواف کو اختیار کر لیا۔ 
(10431)…حضرت سیِّدُنامسعر بن کدامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: میں(طلبِ حدیث کے لئے )مسجدسے آگے نہیں گیا۔ 
غمگین آواز سننے کا شوق: 
(10432)…حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  میرا جی کرتا ہے کہ میں غم میں رونے والی کی آوازسنوں۔ 
(10433)…حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  ایمان قول و عمل کا مجموعہ ہے ۔ (1)
(10434)…حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  ایمان گھٹتا بڑھتا ہے ۔ (2)
(10435)…حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: حروفِ ابجد کے ذریعے تقدیر کو جھٹلانا بے دینی ہے ۔ 
جنت و دوزخ کی سفارش: 
(10436)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے  ہیں کہ حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  جنت اور جہنم انسان کی دعا سنتے ہیں، جب بندہ کہتا ہے کہ اے اللہ عَزَّ    وَجَلَّ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں تو جنت کہتی ہے :  اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! اسے جنت عطا فرما۔ جب وہ کہتا ہے :  اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! میں جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں توجہنم کہتا ہے : اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! اسے پناہ عطا فرما۔ اگر وہ ان دونوں میں سے کسی کا ذکر نہ کرے تو فرشتے کہتے ہیں: لوگ دوعظیم چیزوں سے غافل ہوگئے ۔ 
خود داری پانے کا نسخہ: 
(10437)…حضرت سیِّدُناابواسامہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:  سرکہ و ترکاری پر راضی رہنے والے کو لوگ غلام نہیں بنا سکتے ۔ 
(10438)…حضرت سیِّدُناابواسامہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھ سے فرمایا:  اے حماد! اگر تم روٹی اور ترکاری پر صبر کرو تویہ  بہت سے لوگ مل کر بھی تمہیں غلام نہیں بنا سکتے ۔ 
(10439)…حضرت سیِّدُنا محمد بن بِشررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: جو سرکہ و ترکاری پر صبر کرے اسے غلام نہیں بنایا جا سکتا۔ 
نصیحت آموز اشعار
کم کھانا : 
(10440)…عبدالعزیز بن ابان کا بیان ہے :  میں نے حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو فرماتے سنا:  
وَجَدْتُ الْجُوْعَ يَطْرُدُهٗ رَغِيْفٌ		وَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْ مَاءِ الْفُرَاتِ
وَقُلُّ الطُّعْمِ عَوْنٌ لِلْمُصَلِّيْ		وَكُثْرُ الطُّعْمِ عَوْنٌ لِلسُّبَاتِ
	ترجمہ:  مجھے بھوک لگتی ہے تو اسے ایک روٹی اورنَہْرِفُرات کا چلو بھر  پانی دور کردیتا ہے ، کم کھانا نمازی کے لئے مدد گار ہوتا ہے جبکہ زیادہ کھانانیند کے لیے مددگار ہوتا ہے ۔ 
سکون ووقار والی مجلس: 
(10441)…حضرت سیِّدُنا محمد بن اسحاق سراجرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت سیِّدُنا محمد بن عُبَیْد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی 


________________________________
1 -   اس مسئلے سے متعلق رقم نمبر9442کے تحت حاشیہ ملاحظہ کیجئے ۔ 
2 -   اس مسئلے سے متعلق رقم 9456 پر حاشیہ ملاحظہ کیجئے ۔