کے کام میں آپ کی مدد کیسے کر سکتا ہوں اورمیں آپ کے نزدیک اس بات کا زیادہ حقدار ہوں کہ آپ میری رشتہ داری کا لحاظ رکھیں اور مجھ سے صلہ رحمی کریں، نابغہ بن جعدہ نے کہا:
تُشَارِكُنَا قُرَيْشٌ فِيْ تُقَاهَا وَفِيْ اَحْسَابِهَا شَرَكَ الْعَنَانِ
بِمَا وَلَدَتْ نِسَاءُ بَنِيْ هِلَالٍ وَمَا وَلَدَتْ نِسَاءُ بَنِيْ اَبَانِ
ترجمہ: بنو ہلال اور بنو ابان کی عورتوں کی اولاد (یعنی حضرت سیِّدَتُنا صفيّہ بنْتِ حَزن اور اُمَّ الْفَضل بنْتِ حارِث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اور ان کی والدہ)کے سبب قریش طاقت اور خاندانی شرافت میں شرکَتِ عِنان کی طرح ہمارے شریک ہیں۔
راوی کا بیان ہے کہ پھر خلیفہ نے آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو چار ہزار درہم اورچادر دی اوران کے ساتھ ہمیشہ بھلائی کرتا اور خیال رکھتا رہا۔
ہر رات نصف قرآن کی تلاوت:
(12-10411)…حضرت سیِّدُنا محمد بن مسعر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا فرماتے ہیں: میرے والد صاحب نصف قرآن کی تلاوت کئے بغیر نہ سوتے تھے ، جب اتنی تلاوت کر لیتے تواپنی چادرتہہ کر کے اس پر (سر رکھ کر)تھوڑا سا آرام کرتے پھراس شخص کی طرح اٹھ کھڑے ہوتے جس کی کوئی چیز گم ہو گئی ہو اور وہ اسے تلاش کر رہا ہو اورآپ کو مسواک اور طہارت کی طلب ہوتی پھرکمرہ عبادت کا رخ کر تے اور فجر تک عبادت کرتے رہتے ۔ آپ اپنی اس کیفیت کو چُھپانے کی بہت کوشش کیا کرتے تھے ۔
(10413)…حضرت سیِّدُناشعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: مَا مِنَ النَّاسِ اَحَدٌاِلَّاوَقَدْاُخِذَ عَلَيْهِ اِلَّامِسْعَر یعنی حضرت مسعربن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کا مواخذہ نہ ہوا ہو۔
لوگوں کے لیے طلب علم:
(10414)…حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: جو اپنی ذات کے لئے عِلمِ حدیث حاصل کرنا چاہے وہ تھوڑا حاصل کرے اورجو لوگوں کے لئے حاصل کرنا چاہے وہ زیادہ حاصل کرے کیونکہ لوگوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے ۔
(10415)…حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اپنے لئے علم حاصل کرنے والے کو علم کفایت کر جاتا ہے اور اگر تم لوگوں کے لئے علم حاصل کرتے ہو تو ہمیشہ مصروف ہی رہو گے ۔
(10416)…حضرت سیِّدُنا ابن سِماک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: جو لوگوں کے لئے حدیث حاصل کرنا چاہے تو وہ خوب محنت کرے کیونکہ لوگوں کی تکلیف بہت شدید ہے اور جو اپنے لئے حاصل کرنا چاہے تو وہ اسے کفایت کر جائے گا۔ حضرت سیِّدُناشعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جو آپ کے پاس ہی موجود تھے کہنے لگے : اگر یہ حدیث ہوتی تواِسے لکھا جانا چاہیے تھا۔
بہت بڑی ذمہ داری:
(10417)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: کاش! حدیثیں میرے سر پررکھی شیشیاں ہوتیں جو گِر کر ٹوٹ جاتیں۔
(20تا10418)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: جو مجھ سے بغض رکھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے مُحَدِّث بنا دے ۔
(10421)…حضرت سیِّدُنا مسعربن کدامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: طلبِ حدیث تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر اور نماز سے روکتی ہے تو کیا تم باز آتے ہو۔
(10422)…حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: جس کا نفس اسے غمگین رکھتا ہے معاملہ اس پرواضح ہو جاتا ہے ۔
بدمذہب سے بیزاری:
(10423)…حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنقل کرتے ہیں کہ (حضرت سیِّدُنا محارب بن دِثارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارنے فرمایا: )میں مَکۂ مکرمہ کے سفر میں ابن حطان خارجی کے ساتھ تھا، میں نے اس سے کوئی بات نہیں کی حتّٰی کہ ہم واپس آ گئے ۔
(10424)…حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: میں شک سے پاک حلال صرف اسے ہی جانتا ہوں کہ کوئی شخص نَہرِ فُرات پر آکر اپنے چلو سے پانی پئے یاتمہارانیک دوست تمہیں کوئی تحفہ دے دے ۔
(10425)…حضرت سیِّدُنا سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا: کیا آپ کو یہ پسند ہے کہ آپ کو آپ کے عیب بتائے جائیں؟فرمایا: نصیحت کرنے والا بتائے تو پسند ہے ، ملامت کرنے والے کابتانا پسند نہیں۔
والدہ کا ادب:
(10426)…حضرت سیِّدُناعُبَیْدُاللہاَشْجَعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں: حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی والدہ نے رات کے وقت ان سے پانی مانگا وہ پانی کا مشکیزہ لے کر حاضر ہوئے تو والدہ سو چکی تھیں چنانچہ وہیں مشکیزہ اٹھائے کھڑے رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔