کہا: آپ فلاں کو تو حدیث بیان کرتے ہیں مگر ہمیں نہیں کرتے ۔ آپ نے فرمایا: ایک کو حدیث سنانا اور دوسرے کو چھوڑ دینا میرے لیے آسان ہے اور ہر شخص حدیث کے لیے چاق وچوبند نہیں ہو سکتا۔
حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے عرض کی: ایک شخص نے مجھے آپ کے پاس سفارش کرنے کو کہا ہے کہ آپ اسے حدیث سنا دیا کریں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اس سے کہنا کہ آجائے ۔ میں نے عرض کی: کیا میں بھی اس کے ساتھ آجاؤں؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: تم توہمارے پاس ہی رات گزارو۔
کہیں ظلم وزیادتی نہ ہوجائے :
(10402)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: خدا کی قسم! میں نہیں جانتا کہ اپنے پاس آنے والے ان دوافراد کے ساتھ کیا معاملہ کروں جن میں سے ایک کی بات مجھ پر آسان وہلکی ہو اور دوسرے کی بوجھ ہو۔ حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: کہیں ظلم نہ ہوجائے اس ڈر سے وہ دونوں کے ساتھ یکساں سلوک فرماتے ۔
سجدو ں کی کثرت:
(10403)…خالد بن عَمْروکابیان ہے کہ میں نے حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو دیکھا سجدوں کی کثرت کی وجہ سے ان کی پیشانی پر بکری کے گھٹنے جیسا نشان تھا اور اگر وہ تمہاری طرف دیکھیں تو آنکھوں میں نقص کی وجہ سے تم سمجھو گے وہ دیوار کو دیکھ رہے ہیں۔
(10404)…حضرت سیِّدُنا مکی بن ابراہیمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو دیکھا ہے ، ان کے سر اور داڑھی کے بال سیاہ تھے ، آنکھ میں خرابی تھی اور جو آپ کے پاس بیٹھ کر حدیث لکھتا آپ اسے نظر انداز نہیں کرتے تھے ۔
تعریف کرنے والے کو جواب:
(10405)…حضرت سیِّدُنا ابن کُنَاسَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی تعریف کی تو آپ نے فرمایا: تم میری تعریف کیسے کر سکتے ہو؟میں تولوگوں کو مزدوری پر رکھتا اور حاکم کے تحفے قبول کرتا ہوں۔
علم وادب کی خوبی:
(10406)…حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: علم خاندانوں کی بزرگی ہے جو بندے کے نسب سے خرابی کو دور کرتا ہے اورجسے خاندان پست کرے ادب اُسے بلندکرتا ہے ۔
(10407)…حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں خلیفہ ابو جعفر کے پاس گیا تو اس نے کہا: اگر تمام لوگ آپ کی طرح ہوتے تو میں باہر نکل کر ان کے ساتھ چلتا۔
(10408)…حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے خلیفہ ابو جعفر کے پاس جا کر کہا: ہم تمہارے والد کی جگہ ہیں اور تم ہمارے بیٹے کی جگہ ہو۔ (یہ اشارہ ہے کہ اُمُّ الفضل ہلالیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا میری ماؤوں میں سے ہیں جو تمہارے باپ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی والدہ ہیں اس لئے ہمارا تمہارا رشتہ باپ بیٹے جیسا ہے )اس پر اس نے کہا: میری پسندیدہ ماں کی وجہ سے ہی آپ میرے مَقَرَّب ہیں اگر تمام لوگ آپ کی طرح ہوتے تو میں راستے پران کے ساتھ چلتا۔
منصب قبول نہ کیا:
(10409)…حضرت سیِّدُنا حکم بن ہشامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: خلیفہ ابوجعفرنے مجھے عہدہ دینے کے لئے بلایا تو میں نے کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ امیر کی اصلاح فرمائے ، میرے گھر والے یہ چاہیں کہ میں دو درہم کی کوئی چیز خرید لاؤں تو میں کہتا ہوں: مجھے پیسے دو میں تمہارے لئے خرید لاتا ہوں۔ تو وہ کہتے ہیں: نہیں، بخدا!ہم نہیں چاہتے کہ آپ کچھ خریدیں۔ جب میرے گھر والے مجھے دو درہم کی چیز خریدنے کی ذمہ داری دینے پر راضی نہیں تو امیرالمؤمنین مجھے عہدہ کیوں دے رہیں؟ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کی اصلاح فرمائے ، ہم آپس میں رشتہ دار اور حقدار ہیں۔ شاعر نے کہا:
تُشَارِكُنَا قُرَيْشٌ فِيْ تُقَاهَا وَفِيْ اَحْسَابِهَا شَرَكَ الْعِنَانِ
بِمَا وَلَدَتْ نِسَاءُ بَنِيْ هِلَالٍ وَمَا وَلَدَتْ نِسَاءُ بَنِيْ اَبَانِ
ترجمہ: بنو ہلال اور بنو ابان کی عورتوں کی اولاد(یعنی حضرت سیِّدَتُنا صفيّہ بنت حزن اور ام الفضل بنت حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اور ان کی والدہ)کے سبب قریش طاقت اور خاندانی شرافت میں شرکتِ عنان کی طرح ہمارے شریک ہیں۔ (یعنی ہم لوگ برابرہیں)۔
یہ سن کر اس نے کہا: خدا کی قسم! ہمیں عرب میں اس سے زیادہ پسندیدہ اورکوئی رشتہ نہیں۔ چنانچہ اُس نے آپ کو جانے دیا۔
(10410)…حضرت سیِّدُنا سعید بن عُفَیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ خلیفہ ابو جعفر نے حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو بلا بھیجا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس کے پاس آئے تو اس نے کہا: اے مسعر! ہمیں کچھ کاموں میں آپ کی مدد درکار ہے ۔ آپ نے کہا: امیرالمؤمنین!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!میں اپنے گھر والوں کے لیے ایک درہم کی چیز بھی دوسرے کی مدد سے خریدتا ہوں تو میں آپ