Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
254 - 361
 ابن ابو سُلَیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا :  چار نو جوان ہم میں سب سے افضل تھے ۔ میں نے کہا:  ذرا ٹھہریئے تاکہ میں انہیں لکھ لوں۔ حضرت سیِّدُنا عَمْرو بن قَیْس، حضرت سیِّدُنامُغِیرہ بن ایوب، حضرت سیِّدُنا خلف بن حوشب  اور حضرت سیِّدُنا مِسْعَر بن کِدام عَلَیْہِمُ الرَّحْمَه ۔ 
خوفِ آخرت: 
(10386)…حضرت سیِّدُنا حَفْص بن عبد الرحمٰن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان بیان کرتے ہیں:  میں نے حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو دیکھا (خوفِ خدا کے باعث ایسا لگتا تھا)گویا آپ جہنم کے کنارے پر کھڑے ہیں۔ 
(10387)…حضرت سیِّدُنا احمد بن یونس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں :  میں نے حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو دیکھا ہے ان کی پیشانی پر سجدے کا بہت بڑا نشان تھا۔ 
وصال کے وقت خوف کی کیفیت:  
(10388)…حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن آدم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کے وصال کے وقت ان کے پاس آئے ، انہیں غمگین پا کر کہا:  آپ غم کیوں کرتے ہیں؟ خدا کی قسم! میں تو چاہتا ہوں کہ ابھی مر جاؤں۔ حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  مجھے بٹھاؤ۔ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اپنی بات دہرائی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  سفیان! اگر ایساہے تو پھر آپ کو اپنے عمل پر یقین ہو گالیکن خدا کی قسم! مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ ایسے بلند پہاڑ پر ہوں جس سے اترنے کا راستہ ہی مجھے معلوم نہیں۔ ان کی بات سن کر حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی رو نے لگے اور پھر کہا: آپ مجھ سے زیادہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا خوف رکھتے ہیں۔ 
(10389)…حضرت سیِّدُنا ابوعُبَیْدہ حَذَّاءرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا:  کوفیوں کے نزدیک حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا مقام ومرتبہ ایسا ہی ہے جیسا بصریوں کے نزدیک حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ہے ۔ 
یقین جیسا شک: 
(10390)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں:  لوگوں نے حضرت سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے کہا:  حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اپنی روایت میں شک ہے ۔ آپ نے فرمایا:  حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا شک  دوسروں کے یقین جیسا ہے ۔ 
(10391)…حضرت سیِّدُنا امام شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:  حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا شک مجھے کسی اور کے یقین سے زیادہ محبوب ہے ۔  
لوگوں میں سب سے زیادہ ثقہ: 
(10392)…حضرت سیِّدُنا علی بن مدینی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن سعیدقَطّان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَنَّانسے پوچھا:  حضرت سیِّدُنا ہِشَام دَسْتَوائی اور حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا میں سے کون زیادہ ثقہ ہے ؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ لوگوں میں سب سے زیادہ ثقہ ہیں۔ 
(94-10393)…حضرت سیِّدُناعبداللہبن داودرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ہم حضرت سیِّدُنامِسْعَربن کِدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو (علم حدیث میں پختگی کی وجہ سے ) مُصْحَف کہا کرتے تھے ۔ 
تدلیس سے اجتناب: 
(10395)…حضرت سیِّدُنا یزید بن ہارون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:  میں کوفہ آیا تو میں نے یہاں ایسا کوئی نہ دیکھا جو تدلیس(1)نہ کرتا ہو ہاں!حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام اور حضرت سیِّدُنا شریک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا اس سے بری تھے ۔ 
(10396)…حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے فرمایا:  تدلیس پست ہمتی ہے ۔ 
بوقتِ اختلاف رہنما:  
(98-10397)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:  جب کسی مسئلے میں ہمارا اختلاف ہو جاتا تو اس کے بارے میں ہم حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا کرتے تھے ۔  
(10399)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن داودرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں:  ہمارے ساتھی حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ادب و احترام ایسا ہی کیا کرتے تھے جیسا حضرت سیِّدُنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا کیا کرتے تھے ۔ 
ہر شخص حدیث سننے کا اہل نہیں: 
(10400)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنامسعر بن کدام عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانسے عرض کی گئی: آپ فلاں کو حدیث سناتے ہیں ہمیں کیوں نہیں سناتے ؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: یہ میرے لیے آسان ہے کہ میں ایک کو حدیث سناؤں اوردوسرے کو چھوڑ دوں۔ 
(10401)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:  عِلْمِ حدیث میں حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی پیروی کی جاتی تھی، ایک مرتبہ لوگوں نے آپ سے 


________________________________
1 -     اصولِ حدیث کی اصطلاح میں تدلیس یہ ہے کہ جس سے روایت سنی راوی اس کا نام لینے کے بجائے اس کے اوپر والے شیخ سے ایسے لفظ کے ساتھ روایت کرے جو اس سے سننے کا وہم پیدا کرے اور وہ جھوٹ بھی نہ ہو جیسے وہ کہے :  ” عن فلانیعنی فلاں سے روایت ہے اورقال فلانیعنی فلاں نے کہا۔  “ (مقدمة  الشیح، ص۱۶)