پایا؟ فرمایا: حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو۔ میں نے کہا: سُبْحَانَ اللہ! آپ نے حضرت سیِّدُنا محمد بن سُوْقَہ، حضرت سیِّدُنا موسٰی جُہَنِی اور حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن ابو سلیمان عَلَیْہِمُ الرَّحْمَہ سے بھی ملاقات کی ہے جبکہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے تو ان سے علم حاصل کیا ہے ۔ راوی کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنایعلیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکھڑے تھے کہ آپ کے منہ سے سفیان نکلا توآپ بیٹھ گئے پھر فرمایا: بیٹا!حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی تقوٰی اور علم کے جامع تھے ۔ میں نے کہا: ان کے بعد سب سے بہتر کسے پایا؟ تو حضرت سیِّدُنا یعلیٰ بن عُبَیْد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ میرا ہاتھ پکڑ کر کھڑے ہوئے اور فرمایا: حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو۔
(10379)…حسن بن عُمارہ کا بیان ہے : اگر جنت میں حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجیسے لوگ ہی داخل ہوئے تو یقیناً جنتی بہت تھوڑے ہوں گے ۔
(10380)…حضرت سیِّدُنا معن بن عبدالرحمٰن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان بیان کرتے ہیں: میں نے دن میں جب بھی حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کودیکھاتو یہی کہا کہ وہ اب پہلے سے بھی زیادہ افضل ہیں۔
علما کی وفات:
(10381)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے : جب حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا وصال ہوا تو مجھے ایسا لگا گویاقندیلیں اور چراغ بجھا دئے گئے ہیں۔ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی وفات علما کی وفات ہے ۔
(10382)…حضرت سیِّدُنا سفیان بنعُیَیْنہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ کوفہ کی سب سے بڑی مسجد کی قندیلیں بجھا دی گئیں پس حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا وصال ہو گیا۔
(10383)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: لوگ یہ گمان کیا کرتے تھے کہ اگر حضرت سیِّدُنا مسعر بن کدام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اصحاب کو پالیتے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا شمار بھی انہیں میں ہوتا۔
چار افضل نوجوان:
(85-10384)…حضرت سیِّدُنا وَکیع بن جَرَّاح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے حضرت سیِّدُنا