پس اگر میں کسی غیر مستحق مسلمان کولعنت (1) کروں تو اسے اس کے حق میں کفارہ اور رحمت بنا دے ۔ (2)
(10367)…حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں کہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جواللہعَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم سے محبت چاہتا ہے وہ دیکھ کرقرآنِ پاک کی تلاوت کرے ۔ (3)
فرمانِ مصطفٰے : اللہعَزَّ وَجَلَّبندے کی اُس نمازکی طرف نظرنہیں فرماتاجس میں وہ رُکوع وسجودکے درمیان پیٹھ سیدھی نہ کرے ۔ (مسندامام احمد، مسندابی ھریرہ، ۳ / ۶۱۷، حدیث: ۱۰۸۰۳)
٭…٭…٭…٭
________________________________
1 - دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ868صفحات پر مشتمل کتاب ” اصلاح اعمال “ جلد1 صفحہ424 پر ہے : سوال: حضور نبئ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس شخص کے خلاف دعا یا سبّ وشتم یا لعنت کیسے کر سکتے ہیں جو ان کا مستحق نہ ہو؟جواب: اس کا جواب وہی ہے جو علمائے رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے دیا، مختصر یہ ہے کہ اس کی دو وجہیں ہیں: (۱)پہلی وجہ یہ ہے کہ اس شخص کے لعنت کا مستحق نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک اور امْرِ باطن میں اس کا مستحق اور اہل نہیں تھا۔ لیکن ظاہر میں وہ اس (لعنت وغیرہ) کا مستحق تھا۔ لہٰذا حاکم شریعت ہونے کے اعتبار سے شہنشاہِ دوجہاں، رحمتِ عالمیاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے اس شخص کے بارے میں لعنت کا استحقاق ظاہر ہو گیا جبکہ امْرِ باطن میں وہ اس کا مستحق و اہل نہ تھا اور حضور سیِّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمظاہر کے مطابق فیصلہ فرمانے پر مامور ہیں اور پوشیدہ معاملات کواللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی بہتر جانتا ہے ۔
2 - (۲)دوسری وجہ یہ ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کسی کو بُرا بھلا کہنا یا اس کے خلاف دعا کرنا وغیرہ اس سے مقصود ملامت نہیں ہوتا تھا بلکہ اس کا تعلق اہْلِ عرب کی عادت سے ہے کہ وہ اپنے کلام میں بغیر کسی نیت کے ایسے الفاظ ذکر کر دیتے ہیں جیسا کہ فرمایا: ” تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو۔ “ ایک جگہ ارشاد فرمایا: ” تیری عمر دراز نہ ہو۔ “ اور حضرت سیِّدُنا معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ والی حدیث شریف میں یہ فرمایا: ” اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کا پیٹ نہ بھرے ۔ “
اور اسی طرح دیگر الفاظ کہ اہل عرب ان سے حقیقتاً بد دعا کا ارادہ نہیں کرتے تھے پس(ارادہ نہ ہونے کے باوجود)حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اس بات کا اندیشہ تھا کہ کہیں ان میں سے کوئی بات درجَۂ قبولیت کو نہ پہنچ جائے اس لئے اپنے رب عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ عرض کی کہ میرے ان الفاظ(یعنی کسی کے خلاف دعا وغیرہ) کو اس کے لئے رحمت، بخشش، قرب، پاکیزگی اور اجر کا ذریعہ بنادے اور حضور نبی رحمت، شَفیعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس طرح کی بات کا صدور شاذ ونادر (یعنی کبھی کبھار)ہی ہواکیونکہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نہ تو فحش بات کرتے نہ لعنت کرتے اور نہ ہی اپنی ذات کے لئے انتقام لیتے تھے ۔ “
شرح مشکل الآثار، بيان مشكل ما روی عن رسول الله من قوله: ای المسلمين جلدته الخ، ۱۵ / ۲۷۳، حدیث: ۶۰۰۹، عن ابی ھریرة
3 - شعب الایمان، باب فی تعظيم القرآن، فصل فی قراءة القرآن من المصحف ، ۲ / ۴۰۸، حدیث: ۲۲۱۹