(10363)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ بے کسوں کے مددگار، شَفیعِ روزِ شمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جس مسلمان کے جنازے پر100لوگ نماز پڑھ لیں اسے بخش دیا جاتا ہے ۔ (1)
حاجت پوری نہ ہونا بھی رحمت ہے :
(10364)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: بندہ دنیا کی حاجات میں سے کسی حاجت کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سات آسمانوں کے اوپر اس کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے : اے میرے فرشتو! میرا یہ بندہ دنیا کی حاجت میں سے کسی حاجت کو پورا کرنے کی طرف متوجہ ہے اگر میں اس کی حاجت پوری کر دوں تو اس کے لئے جہنم کا ایک دروازہ کھول دوں گا لیکن میں اسے اس کی حاجت سے دور رکھوں گا۔ پس صبح کوبندہ انگلیاں کاٹتے ہوئے کہتاہے : کون میرے آگے آگیا؟کس نے مجھے مصیبت میں ڈالا؟حالانکہ یہ محض رحمت ہے جس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس بندے پر مہربانی فرماتا ہے ۔ (2)
ایمان والا محبوبِ الٰہی ہے :
(10365)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نبیِّ مُحتَشَم، سراپا جُودو کرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: کوئی بھی دوسرے سے زیادہ کمانے والا نہیں ہے اور نہ ہی کوئی سال دوسرے سال سے زیادہ بارش برسانے والا ہے لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ جہاں چاہتا ہے اسے پھیر دیتا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ مال ودولت محبوب کو بھی دیتا ہے اور دشمن کو بھی مگر ایمان صرف محبوب کو عطا فرماتا ہے ۔ (3)
اُمَّت پر شفقت وکمال مہربانی:
(10366)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم، نُوْرِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!میں بشر ہوں اور بشر کی طرح مجھے بھی غصہ آتا ہے
________________________________
1 - ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی من صلی علیہ جماعة من المسلمین، ۲ / ۲۱۳، حدیث: ۱۴۸۸
2 - قوت القلوب، شرح مقام التوکل ووصف احوال المتوکلین، ۲ / ۱۸ بنحوہ
3 - الثقات لابن حبان، ۵ / ۳۳۰، رقم: ۲۴۲۱، علی بن حمید السلولی