ہوں گے تو اس کے سبب میں تمہیں پہچان لوں گاپس تم میں جس سے ہوسکے اپنی چمک زیادہ کرے ۔ (1)
چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہوضو کرتے تو اپنی کہنیوں اور ٹخنوں کے اوپر تک پانی پہنچاتے اور فرماتے : میں چاہتا ہوں کہ میرے اَعضائے وضو کی چمک زیادہ ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں: آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مراد یہ تھی کہ چمک وہاں تک پہنچے گی جہاں تک وضو کا پانی پہنچے گا۔
بہترین سفارشی:
(10356)…حضرت سیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم، شفیْعِ معظم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن قرآن اپنی تلاوت کرنے والے کا بہترین سفارشی ہو گا۔ وہ کہے گا: اے میرے ربّ!اس کا اکرام فرما۔ تو اسے کرامت کا تاج پہنایا جائے گا پھر وہ کہے گا: اے میرے پروردگار! اس میں اضافہ فرما اور اس سے راضی ہو جا۔ پس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ (2)
﴿10357﴾…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے بندے کی تصدیق فرماتا ہے جب وہ لَااِلٰهَ اِلَّااللهُ کہے اور جب وہلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهکہے تو اسے ( جہنم کی)آگ نہ چھوئے گی۔ (3)
مردار گدھے والی مجلس:
(10358)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسولِ اَکرم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: جو لوگ ایک مجلس میں جمع ہو ں اور پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کیے بغیر جدا ہو جائیں تومردار گدھے سے اٹھتے ہیں(4)اور یہ مجلس بروزِ قیامت ان کے لئے حسرت ہوگی۔ (5)
________________________________
1 - بخاری، کتاب الوضوء، باب فضل الوضوء والغر الخ ، ۱ / ۷۱، حدیث: ۱۳۶، بدون بعض الفاظ
2 - مسند الفردوس، ۴ / ۲۶۲، حدیث: ۶۷۷۲
3 - جمع الجوامع، حرف الھمزة، ۲ / ۴۲۲، حدیث: ۶۸۱۷
4 - مُفَسِّر شہیر ، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمراٰۃ المناجیح، جلد3، صفحہ318پراس کے تحت فرماتے ہیں: یعنی گویا یہ غافل لوگ مردار گدھا کھاکر اٹھے جو پلیدبھی ہے اور حقیر بھی اور اپنی زندگی میں حماقت میں مشہور بھی ہے اور شیطان کا مظہر بھی کہ اس کے بولنے پر لَاحَوْلَ پڑھی جاتی ہے غرضکہ اللہ کے ذکر سے خالی مجلسیں مردار گدھے کی طرح ہیں اوران میں شرکت کرنے والے اس مردارکے کھانے والے ہیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ مؤمن کی کوئی مجلس اللہ کے ذکر سے خالی نہیں ہوتی وعدے پر اِنْ شَآءَ اللہ کہتا ہے چھینک پراَلْحَمْدُ لِلّٰہ، جمائی پر لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاﷲ، غم کی خبر پر اِنَّا لِلّٰہغرضکہ بات بات پر اﷲتعالیٰ کا نام لیتا ہے ، درود ہو اس دافع شرجن و انس پر، صلوٰۃ ہو اس غمخوار امت پر جس نے ہماری زندگی سنبھال دی اور ہماری مجلسیںاللہ کے ذکر سے آباد کردیں۔ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم
5 - مسند امام احمد ، مسند ابی ھریرة، ۳ / ۵۹۷، حدیث: ۱۰۶۸۵