Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
246 - 361
خواہشات کے غلاموں کا حال: 
(10353)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو آسودہ حالوں کو عزت دیں گے عبادت گزاروں کو ہلکا جانیں گے ، قرآنِ کریم میں سے جو ان کی خواہشات کے مُوافِق  ہوگا اس پر عمل کریں گے اور جو خواہشات کے خلاف ہو گا اسے چھوڑ دیں گے پس اس وقت قرآنِ پاک کے بعض حصے کو مان لیں گے اور بعض کا انکار کر بیٹھیں گے ، اس کی کوشش کریں گے جو بغیر کوشش کے مل جاتا ہے یعنی مُقَدَّرمِقدار و مقرر مدت اور نصیب کا رزق  اور اس چیز کی کوشش نہیں کریں گے جو کوشش ہی سے ملتی ہے یعنی بھرپور ثواب، مقبول کوشش اور ایسی تجارت جس میں گھاٹا نہیں۔ (1)
صابِرفُقَرا ومَساکین کااِنعام: 
(10354)…حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عَمْرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورنبی رحمت، شفیْعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: تم سب قیامت میں جمع ہوگے توکہاجائے گا:  ” اس اُمَّت کے فُقَراو مساکین کہاں ہیں؟ “ یہ سن کر فُقَرا و مساکین کھڑے ہو جائیں گے تو ان سے پوچھا جائے گا:  تم نے کیا عمل کیا؟ وہ عرض کریں گے :  ” اے ہمارے پروردگارعَزَّ  وَجَلَّ! تو نے ہمیں آزمائشوں میں مبتلا کیا تو ہم نے صبر کیا اور تو نے مال و بادشاہی دوسروں کو عطا فرمائی۔  “ پس اللہ عَزَّ  وَجَلَّ فرمائے گا:  ” تم نے سچ کہا۔  “  اس کے بعد فُقرا ومساکین ایک زمانہ پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گے جبکہ مالداروں اور بادشاہوں پر حساب و کتاب کی شدت باقی رہے گی۔ لوگوں نے عرض کی:  اہْلِ ایمان اس دن کہاں ہوں گے ؟ ارشاد فرمایا:  ان کے لئے نور کی کرسیاں لگائی جائیں گی ، بادل  ان پر سایہ کئے ہو گااوروہ دن ایمان والوں پردن کی ایک گھڑی سے بھی کم  ہو گا۔ (2)
(10355)…حضرت سیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: تم لوگ بروزِقیامت جمع کئے جاؤگے اس حال میں کہ آثارِوضو سے تمہارے اعضائے وضوچمک رہے 



________________________________
1 -   معجم کبیر، ۱۰ / ۱۹۳، حدیث: ۱۰۴۳۲
2 -   الزھد لابن المبارک، باب الصدقة، ص۲۲۶، حدیث: ۶۴۳