Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
243 - 361
حج و عمرہ کا ثواب: 
(10343)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  حج مبرور کا ثواب جنت ہی ہے (1) اور عُمْرہ دوسرے عُمْرہ تک درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے ۔ (2)
(10344)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:  حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قبر مبارک میں سرخ کمبل بچھایا گیا تھا(3)۔ (4)
جہنم سمٹ جائے گا: 
(10345)…حضرت سیِّدُنااَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  جہنم یہی کہتا رہے گاکہ کیا کوئی اور بھی ہے ؟ حتّٰی کہ اللہربُّ العزت اپنی شان کے لائق اپنا بے مثل قدم اس میں رکھے گا وہ سمٹ جائے گی اور جنت میں اضافہ ہی ہوتارہے گا حتّٰی کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ایک دوسری مخلوق  پیدا فرما کر اسے جنت کی اضافی جگہ میں بَسا دے گا۔ (5)
نفاق کی نشانیاں: 
(10346)…حضرت سیِّدُنااِبْنِ عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ



________________________________
1 -   یعنی حَجِّ مقبول کی جزاء تو یقیناً (یہی)ہے اس کے علاوہ دنیا میں غنا، دعا کی قبولیت بھی عطا ہو جائے تو رب کا کرم ہے حصر ایک جانب میں ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۴ /  ۸۸)
2 -   نسائی، کتاب مناسک الحج، باب الحج المبرور، ص۴۳۲، حدیث: ۲۶۱۹ 
3 -   مفسر شہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمراٰۃ المناجیح، جلد2، صفحہ487 پر اس کے تحت فرماتے ہیں:  اس طرح کہ حضرت شقران(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)غلامِرسولُ اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے کہا:  اب میں یہ کمبل کسے اوڑھے ہوئے دیکھوں گا، بے تابی میں قبْرِ اَنور میں کود گئے اور بستر کی طرح اسے زمین پر بچھادیا۔ سرخ سے مراد سرخ دھاری والا ہے نہ کہ خالی سرخ۔ خیال رہے کہ یہ عمل شریف تمام صحابہ کی موجودگی میں ہوا اور کسی نے اس پر انکار نہ کیا لہٰذا یہ فعل شریف بالکل جائز ہوا۔ علماء فرماتے ہیں کہ یہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خصوصیات میں سے ہے کسی اور کے لیے قبر میں کچھ بچھاناجائزنہیں کیونکہ زمین نہ پیغمبر کا جسم کھاسکتی ہے اور نہ ان کا کفن و بستر لہٰذا اس میں مال کی بربادی نہیں، دیکھو سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام بعدِ وفات ایک سال یا چھ مہینہ عصا کے سہارے کھڑے رہے دیمک نے آپ کی لاٹھی کھائی قدم نہ کھایا اور آپ کا لباس نہ گلا نہ میلا ہوا۔ 
4 -   مسلم، کتاب الجنائز، باب جعل القطیفة فی القبر، ص۴۸۱، حدیث: ۹۶۷
5 -   مسند امام احمد ، مسند انس بن مالک، ۴ / ۲۸۴، حدیث: ۱۲۴۴۳، بتغیر قلیل