Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
242 - 361
نے کہا:  میں ان سے سوال نہیں کروں گا چاہے میرے پاس کچھ نہ ہو، پھر میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس گیا تو آپ کوخطبہ دیتے پایا اس وقت آپ فرمارہے تھے :  ” جوقناعت کرناچاہے گا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے لوگوں سے بے نیازکر دے گا، جو سوال سے بچنا چاہے گا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے بچائے گا، جو ہم سے مانگے گا ہم اسے عطا کریں گے یا اس کی غمخواری کریں گے اور قناعت کرنے والا ہمیں اس سے زیادہ پسند ہے جو ہم سے سوال کرتا ہے ۔  “ (1)یہ سن کر میں واپس آگیا پھر رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد میں نے کبھی  کسی سے  کچھ نہیں مانگا اور پھر دنیا کا مال اتنا آیا کہ انصار کا کوئی گھرانہ ہم سے زیادہ مالدار نہیں تھا۔ 
(10341)…حضرت سیِّدُنااِبْن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ حضورنبی پاک، صاحِبِ لولاک  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: مجھے قرآن سناؤ۔ میں نے عرض کی کہ میں آپ کو قرآن کیسے سنا سکتا ہوں، جبکہ یہ آپ پر ہی اُترا ہے ۔ (آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  میری خواہش ہے کہ میں اپنے علاوہ کسی سے قرآنِ پاک سنوں۔ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ میں نے سورۂ نساء سے ابتدا کی اور آپ کے سامنے تلاوت کرتا رہا جب میں اس آیت تک پہنچا: 
فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًاﳳ(۴۱) (پ۵، النسآء: ۴۱)
ترجمۂ کنز الایمان: تو کیسی ہوگی جب ہم ہر اُمت سے ایک گواہ لائیںاوراے محبوب تمہیں ان  سب پرگواہ اورنگہبا ن بناکرلائیں۔
	تو میں نے دیکھا آپ کی چشمانِ کرم سے آنسو جاری تھے ۔ )(2)
(10342)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے : ’’روحیں مخلوط لشکر ہیں تو ان میں سے جو جان پہچان رکھتی ہیں وہ محبت کرتی ہیں اور جواجنبی رہ چکی ہیں وہ الگ رہتی ہیں۔ (3)‘‘(4) 

________________________________
1 -   تھذیب الآثار للطبری، مسند عمربن الخطاب، السفر الاول، ۱ /  ۱۰، حدیث: ۹
2 -   بخاری، کتاب التفسیر، باب فکیف اذا جئنا    الخ، ۳ / ۲۰۵، حدیث:  ۴۵۸۲
3 -   بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب الارواح جنود مجندة، ۳ / ۴۱۳، حدیث: ۳۳۳۶، عن عائشة
4 -   مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمراٰۃ المناجیح، جلد6، صفحہ584پر اس کے تحت فرماتے ہیں:  یعنی انسانی روحیں بدنوں میں آنے سے پہلے آپس میں مخلوط تھیں اس طرح کہ سعید روحیں ایک گروہ تھیں اور شقی روحیں دوسرا گروہ مگر سعید آپس میں مخلوط تھیں اور شقی آپس میں مخلوط۔ جب یہ روحیں بدنوں میں آئیں تو ہرروح کو اس روح سے الفت ہوگئی جس کے  ساتھ پہلے خلط ملط رہ چکی ہے اگرچہ دنیا میں مختلف زمانوں مختلف زمینوں میں رہیں۔ جو روحیں وہاں عالَمِ اَرْوَاح میں الگ الگ تھیںکہ یہ روح ایک زمرہ کی تھی وہ روح دوسرے زمرہ کی وہ بدن میں آنے کے بعد اگرچہ ایک جگہ رہیں مگر ان میں الفت نہ ہوگی نفرت ہوگی: 
نارِیاں مَرْنارِیاں رَا طالِب اَنْد		نُورِیاں مَرْنُورِیاں رَا جاذِب اَنْد
	کَنْعان حضرت نوحعَلَیْہِ السَّلَامکا بیٹا ہوکر الگ رہا، بلقیس یمن میں رہتے ہوئے حضرت سلیمانعَلَیْہِ السَّلَامکے پاس پہونچ گئی، ابوجہل مکہ میں رہتے ہوئے حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)سے دوررہا، اویس قَرَنی(عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی)دوررہتے ہوئے حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)سے قریب ہورہے ۔ بُعدِ دار اور قُربِ مزار کچھ نہیں۔