اور کوئی مقصد نہ ہو تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے ہر قدم کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند فرماتا اور ایک خطا مٹاتا ہے ۔ (1)
(10337)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثَقَفی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں: میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی چیزکا حکم دیجئے جس کے بارے میں آپ کے بعد کسی سے نہ پوچھوں۔ تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ فرمایا(یعنی زبان کی حفاظت کرو)۔ (2)
چار کبیرہ گناہ:
(10338)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ رحمتِ کونین، شہنشاہِ دارین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: گناہِ کبیرہ چار ہیں: (۱)…اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ شریک ٹھہرانا (۲)…ایسی جان کو قتل کرنا جس کا قتل اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حرام فرمایا ہے (۳)…والدین کی نافرمانی کرنا اور (۴)… جھوٹی قسم کھانا۔ (3)
(10339)…حضرت سیِّدُنا براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ جب آقائے دو جہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رکوع سے سر اُٹھالیتے تو جب تک آپ کو سجدے میں نہ دیکھ لیتے ہم (سجدہ کے لئے )اپنی کمر نہیں جھکاتے تھے ۔ (4)
خودداری کی برکت:
(10340)…حضرت سیِّدُنا ہِلال بن حُصَیْنرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ آیا اور حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ایک مکان میں ٹھہرا، میں اور وہ ایک مجلس میں تھے تو میں نے انہیں فرماتے سنا: حضور نبی پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دورِاقدس میں ایک بار مجھے فاقے نے اتنا ستایا کہ میں نے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیا، میری زوجہ نے مجھ سے کہا: کاش! آپ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس جا کر کچھ مانگ لیں کیونکہ فلاں شخص نے بھی ان سے مانگا تو انہوں نے عطا فرما دیا تھا۔ میں
________________________________
1 - ترمذی، کتاب السفر، باب ماذکر فی فضل المشی الخ، ۲ / ۱۱۰، حدیث: ۶۰۳
2 - سنن کبری للنسائی، کتاب التفسیر، سورة الدخان، ۶ / ۴۵۸، حدیث: ۱۱۴۸۹
3 - بخاری، کتاب الایمان والنذر، باب الیمین الغموس، ۴ / ۲۹۵، حدیث: ۶۶۷۵، عن عبد اللّٰه بن عمرو
4 - الفوائد لتمام، ۱ / ۱۲۶، حدیث: ۲۹۰