سیِّدُناابوبکروحضرت سیِّدُناعمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے خالص مومن ہی محبت کرتا ہے اور بد بخت و سرکش ہی ان سے بغض رکھتا ہے ، ان کی محبت نیکی ہے اور ان سے بغض رکھنا بے دینی وگمراہی ہے ، لوگوں کوکیا ہوگیا ہے کہ وہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ان دوبھائیوں، وزیروں، صحابیوں، قریش کے سرداروں اور مسلمانوں کے روحانی باپوں کا بُرا چرچا کرتے ہیں ، جوان دونوں کو بُرا کہے میں اس سے بری (بیزار) ہوں اور اسے سزا دوں گا۔
عربی شعرکا سچاترین مصرعہ:
(10333)…حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِدوعالَم، نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اہْلِ عرب کاسب سے سچا مصرعہ یہ ہے : اَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَّاخَلَااللهَ بَاطِلُیعنی سن لو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا ہر چیز فانی ہے ۔ (1)
حُسنِ اَخلاق کی عظیم ترین مثال:
(10334)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: اگر مدینے کی کوئی باندی رسولِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کام کے سلسلے میں کہیں بھی لے جانا چاہتی تو لے جا سکتی تھی۔ (2)
(10335)…حضرت سیِّدُناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: اگر مدینے کی کوئی لونڈی رسولِ اکرم، نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کسی کام سے لے جاتی تو اپنے کاموں میں آپ کو ساتھ لے کر گھومتی رہتی حتّٰی کہ جب فارغ ہو جاتی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم واپس تشریف لے آتے ۔ (3)
باوضو مسجد جانے کی فضیلت:
(10336)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی اچھی طرح وضو کر کے نماز کے لئے جائے اور اس کے علاوہ اس کا
________________________________
1 - بخاری، کتاب مناقب الانصار، باب ایام الجاهلية، ۲ / ۵۷۰، حدیث: ۳۸۴۱
2 - ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب البراءة من الكبر والتواضع، ۴ / ۴۵۸، حدیث: ۴۱۷۷
3 - اخلاق النبی وآدابہ، ص۱۸، حدیث: ۲۸