ہر بھلائی صدقہ ہے :
(99تا10297)…حضرت سیِّدُنا حُذَیفہ، حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس اور حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے روایت ہے کہ حضورنَبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ہر بھلائی صدقہ ہے چاہے غنی کے ساتھ کی جائے یا فقیر کے ساتھ۔ (1)
بارگاہِ مصطفٰے میں مقامِ مرتضٰی:
(06تا10300)…حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے فرمایا: کیا تم اس پر راضی نہیں کہ میرے نزدیک تمہارا مرتبہ ایسا ہوجیسا حضرت موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام کے نزدیک حضرت ہارونعَلَیْہِ السَّلَام کا تھا سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (2)
حضرمی کی روایت میں ہے کہ حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے عرض کی: ’’ کیوں نہیں! میں راضی ہوں، میں راضی ہوں۔ ‘‘(3)
(08-10307)…حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ مکی مدنی سلطانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غزوہ تبوک کے موقع پر مجھ سے ارشاد فرمایا: میں اپنے پیچھے تمہیں اپنے گھر والوں میں چھوڑتا ہوں کہ تم میرے گھر میں میرے نائب ہو ۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں آپ کے پیچھے آپ کا نائب نہیں بن سکتا۔ ارشاد فرمایا: کیا تم اس پر راضی نہیں کہ میرے ساتھ
________________________________
1 - ابو داود، کتاب الادب، باب فی المعونة للمسلم، ۴ / ۳۷۳، حدیث: ۴۹۴۷ ، معجم کبیر، ۱۰ / ۹۰، حدیث: ۱۰۰۴۷
مکارم الاخلاق للطبرانی، باب فضل اصطناع المعروف، ص۳۵۴، حدیث: ۱۱۲
2 - مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل علی بن ابی طالب، ص۱۳۰۹، حدیث: ۲۴۰۴
سنن کبری للنسائی، کتاب الخصائص، ذکر منزلة علی بن ابی طالب، ۵ / ۱۲۲، حدیث: ۸۴۳۸
مسند البزار، ومما روى بكير بن مسمار عن عامر عن ابيه سعد، ۳ / ۳۲۴، حدیث: ۱۱۲۰
3 - سنن کبری للنسائی، کتاب الخصائص، ذکر الاختلاف علی عبد اللّٰہ بن شریک، ۵ / ۱۲۴، حدیث: ۸۴۴۶
سنن کبری للنسائی، کتاب الخصائص، ذکر منزلة علی بن ابی طالب ، ۵ / ۱۲۲، حدیث: ۸۴۳۶