Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
235 - 361
	حضرت سیِّدُنا سلیمان شیبانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے پوچھا:  ابوعَمْرو!آپ کو کس نے خبردی؟ فرمایا:  حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے ۔     
(10293)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضورنبی محتشَم، شہنشاہِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تدفین کے بعد ایک عورت کی قبر پر نماز جنازہ ادا فرمائی(1)۔  (2)
مسجد کی خدمت کا انعام: 
(10294)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ سرورِ دو عالَم، نور مجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسجد سے تنکے چننے والی ایک عورت کی قبر پر تشریف لائے اور اس کی نمازِ جنازہ ادا فرمائی۔ (3) 
(10295)…حضرت سیِّدُنا عامر بن ربیعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک قبر پر نمازِ جنازہ ادا فرمائی۔ (4)
 (10296)…حضرت سیِّدُنا سَمُرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت کا زچگی کے سبب انتقال ہوا تو رسولِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور میت کے درمیان میں کھڑے ہوئے ۔ (5)



________________________________
1 -    ا گر ولی نماز میں شریک نہ ہوا تو نماز کا اعادہ کر سکتا ہے اور اگر مردہ دفن ہوگیا ہے تو قبر پر نماز پڑھ سکتا ہے (بہارشریعت، حصہ ۴، ۱ / ۸۳۸)مُفَسِّرِشَہِیْر، حکیْمُ الاُمَّت مفتی احمدیارخان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: قبر پر نماز جائز ہے جب غالب یہ ہو کہ ابھی میت محفوظ ہوگی، گلی پھٹی نہ ہوگی(نیز) حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سارے مسلمانوں کے ولی ہیں، ربّ فرماتاہے : اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ (پ۲۱، الاحزاب : ۶، ترجمۂ کنزالایمان: یہ نبی مسلمانوں کاان کی جان سے زیادہ مالک ہے )اگر ولی کے علاوہ اور لوگ نماز پڑھ لیں تو ولی کو دوبارہ جنازہ پڑھنے کا حق ہے ، بعض لوگ ان احادیث کی بنا پر کہتے ہیں کہ نماز جنازہ کئی بار ہوسکتی ہے مگر یہ غلط ہے ، ورنہ تا قیامت ہمیشہ زائرین حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے روضہ پرپہنچ کر آپ کی نمازِ جنازہ پڑھا کرتے ۔ ولی کے نماز پڑھ لینے کے بعد اورکسی کو جنازہ پڑھنے کا حق نہیں دیکھو، حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم پر دو روز تک مسلسل نمازیں ہوتی رہیں مگر جب صدیق اکبر نے جو خَلَیْفَۃُ الْمُسْلِمِیْناورولیرَسُوْلُاللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمتھے آپ پرنمازپڑھ لی پھرکسی نے نہ پڑھی۔ (مراٰۃ المناجیح، ۲ / ۴۷۲، ۴۷۳، ملتقطاً)
2 -   مسند امام احمد، مسند انس بن مالک، ۴ / ۲۶۱، حدیث: ۱۲۳۲۰
3 -   مسند عبد بن حمید، ص۱۷۷، ۴۸۹، رقم:  ۹۷، عبد  اللّٰه بن عامر
4 -   مسند البزار، مسند ابی حمزة انس بن مالك، ۱۳ / ۲۸۵، تحت الحدیث: ۶۸۵۷، عن انس
5 -   بخاری، کتاب الحیض، باب الصلاة علی النفساء وسنتھا، ۱ / ۱۳۲، حدیث: ۳۳۲