الْغَفَّار سے پوچھا: کیا انہوں نے تہبند کا نام لیاتھا؟ تو جواب دیا: انہوں نے تہبند یا کسی اور کپڑے کو خاص نہیں کیا۔
(10288)…حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ اُمَّت کے غمخوار آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کپڑا لٹکانے والے کی طرف نَظرِ رحمت نہیں فرماتا۔ (1)
(10289)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ رسولِ پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہووہ آگ میں ہے ۔ (2)
(10290)…حضرت سیِّدُنامحمدبن زیادعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَادبیان کرتے ہیں کہ مروان نے حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مدینہ کا گورنر بنایا تو جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کسی شخص کو تہبند گھسیٹتا دیکھتے تو اس کے پاؤں پر مارتے پھر فرماتے : امیر آگئے ، امیر آگئے ، اس کے بعد فرماتے : حضرت سیِّدُناابو القاسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا ہے : ’’جواتراتے ہوئے اپنا تہبندگھسیٹے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُسکی طرف نَظرِ رحمت نہیں فرماتا۔ ‘‘(3)
تدفین کے بعد نمازِ جنازہ:
(92-10291)…حضرت سیِّدُنا سلیمان شَیْبانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں: حضرت سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا کہ مجھے حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ نماز ادا کرنے والے شخص نے یہ خبر دی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک الگ تھلگ قبر پر تشریف لائے اور اپنے پیچھے لوگوں کی صف بنائی اور اس قبر پر نماز جنازہ ادا کی(4)۔ (5)
________________________________
1 - مسند البزار، مسند ابن عباس، ۱۱ / ۳۰۹، حدیث: ۵۱۱۴
2 - بخاری، کتاب اللباس، باب ما اسفل من الکعبین، ۴ / ۴۶، حدیث: ۵۷۸۷
3 - مسند امام احمد، مسند ابی ھریرة، ۳ / ۳۸۱، حدیث: ۹۳۱۶
4 - صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدْرُالطَّرِیْقَہحضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : میّت کو بغیر نماز پڑھے دفن کر دیا اور مٹی بھی دے دی گئی تو اب اس کی قبر پر نماز پڑھیں، جب تک پھٹنے کا گمان نہ ہو اور مٹی نہ دی گئی ہو تو نکالیں اور نماز پڑھ کر دفن کریں اور قبر پر نماز پڑھنے میں دنوں کی کوئی تعداد مقرر نہیں کہ کتنے دن تک پڑھی جائے کہ یہ موسم اور زمین اور میّت کے جسم و مرض کے اختلاف سے مختلف ہے ، گرمی میں جلد پھٹے گا اور جاڑے میں بدیر تر یا شور زمین میں جلد خشک اور غیر شور میں بدیر فربہ جسم جلد لاغر دیر میں۔ (بہارشریعت، حصہ ۴، ۱ / ۸۴۰)
5 - سنن كبرى للبیھقی، کتاب الجنائز، باب الصلاة علی القبر بعد ما دفن، ۴ / ۷۶، حدیث: ۷۰۰۶