نے ہمارے ساتھ یہ نماز پڑھی اور ہمارے ساتھ اس جگہ وقوف کیا حتّٰی کہ ہمارے ساتھ لوٹا اور اس سے پہلے وہ عرفات میں رات یا دن میں وقوف کر چکا تھا تو اس کا حج مکمل ہو گیا اوراس نے اپنے گناہوں کا میل دور کر لیا۔ (1)
تکبُّر سے کپڑا لٹکانے کی مذمت:
(83-10282)…حضرت سیِّدُناابْنِ عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضورسرورِ کائناتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: جس نے تکبرسے اپناکپڑاگھسیٹااللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی طرف نَظرِ رحمت نہیں فرمائے گا۔ (2)
(10284)…حضرت سیِّدُنا مسلم بن یَنَّاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے ایک شخص کو اپنا تہبندگھسیٹتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: تم کون ہو؟اس نے اپنا نسب بیان کیا تو وہ بنو لیث سے تعلق رکھنے والا شخص تھا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے پہچان لیا اور فرمایا: اپنے تہبند کو اونچا کرو کیونکہ میں نے اپنے ان کانوں سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے سنا ہے کہ’’جو محض تکبر کے ارادے سے اپنا تہبند گھسیٹے تواللہ عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اس کی طرف نَظرِ رحمت نہیں فرمائے گا۔ ‘‘(3)
(10285)…حضرت سیِّدُنااِبْنِ عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ رحمت عالَم، شافِعِ اُمَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا۔ (4)
(87-10286)…حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا مُحارِب بن دِثَار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار مسجد میں اس جگہ پر تشریف لا رہے تھے جہاں بیٹھ کر فیصلے کئے جاتے ہیں تومیں ان سے ملا اور کپڑا لٹکانے والی حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو فرماتے سنا ہے کہرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اس کی طرف نظَرِ رحمت نہیں فرمائے گا۔ (5)‘‘میں نے حضرت محارب بن دِثار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ
________________________________
1 - صحیح ابن خزیمة، کتاب المناسک، باب ذكر وقت الوقوف بعرفة، ۴ / ۲۵۶، حدیث: ۲۸۲۰
2 - بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی ، باب قول النبی: ’’لو كنت متخذا خليلا‘‘، ۲ / ۵۲۰، حدیث: ۳۶۶۵
3 - مسلم، کتاب اللباس، باب تحريم جر الثوب خيلاء، ص۱۱۵۵، حدیث: ۲۰۸۵
4 - بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی ، باب قول النبی: ’’لو كنت متخذا خليلا‘‘، ۲ / ۵۲۰، حدیث: ۳۶۶۵
5 - سنن کبری للنسائی، کتاب الزینة، باب ذکر الاختلاف علی شعبة فیہ، ۵ / ۴۹۳، ۴۹۲، حدیث: ۹۷۳۱، ۹۷۲۷