رکعت ادا کروں؟ انہوں نے فرمایا: دو رکعتیں ، یہ ابو القاسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا عمل ہے ۔ (1)
(10274)…حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ہم شہنشاہِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ نکلے اور آپ کے ساتھ حج کیا، آپ واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں ادا فرماتے رہے ۔ میں نے حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا: آپ لوگوں نے مَکۂ مکرمہ میں کتنے دن قیام کیا ؟ فرمایا: دس دن۔ (2)
(10275)…حضرت سیِّدُنا حارثہ بن وہب خُزاعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں: میں نے منٰی میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ دو رکعت نماز ادا کی حالانکہ لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اورہر طرح کا امن تھا۔ (3)
(10276)…حضرت سیِّدُناابوجُحَیْفَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ حبیْبِ کبریاصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم دوپہر کے وقت ہمارے پاس مقام بطحاء میں تشریف لائے ، وضو فرمایا اورظہر دورکعتیں اور عصر بھی دورکعتیں پڑھائیں۔ (4)
(10277)…حضرت سیِّدُناابوجُحَیْفَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بیان ہے کہ انہوں نے سرورِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ مقام بطحاء میں نمازپڑھی پس آپ نے اپنے سامنے برچھی گاڑلی اوراس کی طرف رُخ کر کے دو رکعتیں ظہر کی اور دورکعتیں عصر کی پڑھائیں۔ (5)
ارکانِ حج کی تعلیم:
(81تا10278)…حضرت سیِّدُنا عُرْوَہ بن مُضَرِّسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ (حالَتِ احرام میں) مزدلفہ آیا، میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کی: میں جبْلِ طی سے آیا ہوں اور راستے میں جوبھی پہاڑ آیا میں نے اس پر وقوف کیا تو کیا میرا حج ہو گیا؟ ارشاد فرمایا: جس
________________________________
1 - سنن كبرى للبیھقی، کتاب الصلاة، باب المسافر ينزل بشیء من ماله الخ، ۳ / ۲۱۹، حدیث: ۵۴۸۵
2 - مسلم، کتاب صلاة المسافرین وقصرھا، باب صلاةالمسافرین وقصرھا، ص۳۴۹، حدیث: ۶۹۳
3 - مصنف ابن ابی شیبة، کتاب المناسک، باب فی الصلاة بمنى كم هی ركعتان ام اربع؟، ۴ / ۳۴۰، حدیث: ۳
4 - بخاری، کتاب المناقب، باب صفة النبی صلی الله علیه وسلم، ۲ / ۴۸۸، حدیث: ۳۵۵۳
5 - معجم کبیر، ۲۲ / ۱۱۵، حدیث: ۲۹۳