(آگے یوں ہے : )اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِيْنَ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ۔ پھر فرمایا: اس مقام پرمیں نے وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ کا اضافہ کیاہے ۔ (پھر یوں ہے : )وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُه۔ (1)
رات میں مسواک کرنا:
(33-10232)…حضرت سیِّدُناحذیفہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ طَیِّب وطاہِرآقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب تہجد کے لئے رات میں اٹھتے تو مسواک کرتے ۔ (2)
وتر میں پڑھی جانے والی سورتیں:
(38تا10234)…حضرت سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن اَبْزی اور حضرت سیِّدُناابنِ ابی اوفیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِقلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وتر میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ(۱)، قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ(۱)اور قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔ (3)
وترکی تین رکعتیں ہیں:
(10239)…حضرت سیِّدُناعبداللہبن سَرجِسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ سرورِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وترکی تین رکعتیں پڑھاکرتے تھے جس کی پہلی رکعت میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ(۱) ، دوسری میں قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ(۱)جبکہ تیسری میں قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)، قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ(۱)اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ(۱)کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔ (4)
(10240)…امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں: آقائے نامدار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وتر میں سورۂ زِلزال، سورۂ عادِیات، سورۂ تُکَاثُر، سورۂ لہب اور سورۂ اِخلاص
________________________________
1 - ابو داود، کتاب الصلاة، باب التشھد، ۱ / ۳۶۵، حدیث: ۹۷۱
2 - بخاری، کتاب التھجد، باب طول القیام فی صلاة اللیل، ۱ / ۳۸۶، حدیث: ۱۱۳۶
3 - ترمذی، کتاب الوتر، باب ماجاء فیما یقرا بہ فی الوتر، ۲ / ۱۰، حدیث: ۴۶۱، عن ابن عباس
4 - دار قطنی، کتاب الوتر، باب مایقرافی رکعات الوتر، ۲ / ۴۲، حدیث: ۱۶۶۰، عن عائشة