یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ(۱۸) (پ۲۸، الحشر: ۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والواللہسے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ کل کے لیے کیا آ گے بھیجا اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے ۔
انسان اپنے دینارودرہم، اپنے کپڑے اور گندم وجَو کے صاع میں سے خیرات کرے حتّٰی کہ فرمایا: کھجور کا ٹکڑا ہی سہی۔ (1)
(10191)…حضرت سیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اِتَّقُواالنَّارَوَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍیعنی جہنم سے بچو اگرچہ نصف کھجور کے ذریعے ۔ (2)
دخولِ جنت کے لیے ایمان شرط:
(95-10192)…حضرت سیِّدُناابو ذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ محبوب خدا، شفیْعِ روزِ جزا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے مجھے خوشخبری دیتے ہوئے کہا کہ میرا جو امتی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ کسی کوشریک ٹھہرائے بغیر مرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے عرض کی: اگرچہ زنا کرے ، اگرچہ چوری کرے ؟ارشاد فرمایا: اگرچہ زنا کرے ، اگرچہ چوری کرے ۔ (3)
(10196)…حضرت سیِّدُناابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے ارشادفرمایا: اے ابو ذر! لوگوں کو خوشخبری سنا دو کہ جس نے لَا اِلٰهَ اِلَّااللهکہا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ (4)
روزہ دار کے منہ کی بو:
(98-10197)…حضرت سیِّدُناابو ہریرہ اور حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: روزہ دار کے منہ کی بو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں مشک
________________________________
1 - مسند ابو داود الطیالسی، احادیث جریر بن عبد اللّٰه، ص۹۲، حدیث: ۶۷۰
2 - بخاری، کتاب الزکاة، باب اتقوا النار...الخ، ۱ / ۴۷۸، حدیث: ۱۴۱۷
3 - بخاری، کتاب الاستئذان، باب من اجاب بلبيك وسعديك، ۴ / ۱۷۹، حدیث: ۶۲۶۸
مسلم، کتاب الایمان، باب من مات لا يشرك بالله شيئا الخ ، ص۶۲، حدیث: ۹۴
4 - مسند ابو داود الطیالسی، احادیث ابی ذر الغفاری، ص۶۰، حدیث: ۴۴۴