Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
220 - 361
 اِتَّقُواالنَّارَوَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍیعنی دوزخسے بچو اگرچہ کھجور کے ٹکڑے کے ذریعے اگر وہ بھی نہ پاؤ تو اچھی بات کے ذریعے ۔ (1)
(10189)…حضرت سیِّدُناعدی بن حاتم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: میں نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا تودیکھا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہرہ انور پر خوشی کے آثارہیں، لوگوں نے اس خوشی کی وجہ پوچھی تو آپ نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حمد و ثنا کے بعد ارشاد فرمایا:  تم میں سے جب کوئی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ملے گا تو وہ فرمائے گا:  کیا میں نے تجھے سننے دیکھنے والا نہیں بنایا؟ کیا میں نے تجھے مال و اولاد سے نہیں نوازا؟بتا تُو نے آگے کیا بھیجا؟ یہ سن کر وہ اپنے آگے ، پیچھے اور دائیں بائیں دیکھے گا مگرکچھ نہ پائے گا، پس وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی رحمت سے ہی آگ سے بچ سکے گا لہٰذا تم آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کے ذریعے اگر وہ بھی نہ پاؤ تو اچھی بات کے ذریعے ۔ (2)
صدقات کی ترغیْبِ نبوی: 
(10190)…حضرت سیِّدُناجریر بن عبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ صبح سویرے ہم پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ننگے پاؤں، پھٹے پُرانے کپڑے پہنے کچھ کمبل پوش لوگ آئے ان کا فاقہ دیکھ کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہرہ کا رنگ متغیر ہو گیا پس  غریبوں کے غمگسار آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:  
یٰۤاَیُّهَا  النَّاسُ   اتَّقُوْا  رَبَّكُمُ  الَّذِیْ  خَلَقَكُمْ  مِّنْ  نَّفْسٍ  وَّاحِدَةٍ  وَّ  خَلَقَ  مِنْهَا  زَوْجَهَا  وَ  بَثَّ  مِنْهُمَا  رِجَالًا  كَثِیْرًا  وَّ  نِسَآءًۚ-وَ  اتَّقُوا  اللّٰهَ  الَّذِیْ  تَسَآءَلُوْنَ  بِهٖ  وَ  الْاَرْحَامَؕ-اِنَّ  اللّٰهَ  كَانَ  عَلَیْكُمْ  رَقِیْبًا(۱) (پ۴، النسآء: ۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اے لوگواپنے رب سے ڈروجس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اُس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلادیئے اوراللہ سے ڈرو جس کے نام پرمانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بے شک اللہہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے ۔ 
	پھر فرمایا:  



________________________________
1 -   بخاری، کتاب الاداب، باب طیب الکلام، ۴ / ۱۰۶، حدیث: ۶۰۲۳
2 -   ترمذی، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورة الفاتحة الکتاب، ۴ / ۴۴۲، حدیث: ۲۹۶۳، بتغیر