مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے متعلق بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک ہفتے میں پورا قرآن کریم پڑھا کرتے تھے اور رمضان شریف میں تین دن میں پڑھتے تھے ۔
(10172)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن بُسْر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنَبِیِّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ” كِيلُوْاطَعَامَكُمْ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيْهِیعنی غلہ تول کرلیاکروتمہیں اس میں برکت دی جائے گی۔ “ (1)
دعوت قبول کیا کرو:
(10173)…حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جسے دعوت دی جائے اسے چاہئے کہ دعوت قبول کرے توجس نے قبول نہ کی اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ (2)
(75-10174)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک زمانہ میں اذان کے کلمات دو دو بار کہے جاتے اور تکبیر کے ایک ایک بار سوائے اس کے کہ جب مؤذن قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃ کہتا تو دو مرتبہ کہتا(3)۔ (4)
________________________________
1 - ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب ما يرجى فی كيل الطعام من البركة، ۳ / ۵۱، حدیث: ۲۲۳۱
2 - مسلم، کتاب النکاح، باب الامر باجابة الداعی الى دعوة، ص۷۴۸، حدیث: ۱۴۲۹
ابو داود، کتاب الاطعمة، باب ماجاء فی اجابة الدعوة، ۳ / ۴۷۹، حدیث: ۳۷۴۱
3 - احناف کے نزدیک: اقامت اذان ہی کے مثل ہے (لہٰذااقامت کے الفاظ بھی دودوبارکہے جائیں گے )مگرچندباتوں میں فرق ہے اذان کے کلمات ٹھہرٹھہرکرکہے جاتے ہیں اوراقامت کے کلمات کوجلدجلدکہیں، درمیان میں سکتہ نہ کریں، اقامت میں حَیَّ عَلَی الْفَلَاح کے بعددومرتبہ قَدْقَامَتِ الصَّلٰوۃُ بھی کہیں۔ (جنتی زیور، ص۲۶۶)مُفَسِّرِشہیر، حکیْمُ الامت مفتی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: خیال رہے کہ یہ حدیث اگر صحیح ہوتو یامنسوخ ہے یا اس کی تاویل واجب۔ اگرتکبیرکے کلمات ایک ایک بارہوتے تو صحابَۂ کرام حضور(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم)کے بعدیہ عمل چھوڑ نہ دیتے ۔ بیہقی شریف میں ہے کہ حضرت علی مرتضٰی(رَضِیَ اللہُ عَنْہ)نے ایک شخص کودیکھاکہ وہ اِقامت ایک ایک بارکہہ رہاہے ، آپ ناراض ہوئے اورفرمایا ” اِجْعَلْھَا مَثْنٰی مَثْنٰی لَااُمَّ لَكَ “ یعنی تیری ماں مرے دو دو بار کہہ، اب دو ہی صورتیں ہیں: یا اس حدیث کو منسوخ مانو یا اس میں یہ تاویل کی جائے کہ یہ دائمی عمل نہ تھا بلکہ کبھی کسی عارضہ کی بناءپر ہوا تھا یا اذان اور اقامت کے لغوی معنیٰ مراد لئے جائیں۔ (مراٰۃ المناجیح، ۱ / ۴۰۲، ملتقطاً)
4 - دارمی، کتاب الصلاة، باب الاذان مثنى مثنى والاقامة مرة، ۱ / ۲۹۰، حدیث: ۱۱۹۳