(10166)…حضرت سیِّدُناکَعْب اَحْبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّپسند نہیں فرماتا موٹے شخص کو(1)اوراُن گھر والوں کوجوگوشت کھانے والے (2)ہوں۔
(10167)…حضرت سیِّدُناادریس اودی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکے والد (راویِ حدیث حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ذکر کیے بغیر)روایت کرتے ہیں کہ مکی مدنی سلطان، رحمتِ عالمیانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب حطیْمِ کعبہ میں نماز پڑھتے تو حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(حفاظت کے لئے )تلوار لئے آپ کے سر پر کھڑے رہتے تھے ۔ (3)
(10168)…حضرت سیِّدُناطلق بن علیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو بارگاہِ رسالت میں سوال کرتے سنا کہ کوئی شخص حالتِ نماز میں اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو کیا وہ وضو کرے گا؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: وہ بھی جسم کا ایک ٹکڑا ہی ہے ۔ (4)
(10169)…حضرت سیِّدُنا محمد بن جابر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَافِر بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناشعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مقامِ واسط میں مجھ سے ملے اورشرم گاہ چھونے پروضو والی حدیث سنانے کی فرمائش کی، میں نے انہیں حدیث بیان کی تو انہوں نے مجھ سے کہا: میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے بعد کسی کو یہ حدیث بیان نہ کریں۔ میں نے کہا: میں ایسا نہیں کر سکتا۔
تین دن میں ختْمِ قرآن:
(17-10170)…حضرت سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن
________________________________
1 - موٹاپاچونکہ غفلت اورزیادہ کھانے پردلالت کرتاہے اوریہ بات بُری ہے ۔ (احیاء العلوم، کتاب کسرالشھواتین، باب فضل الجوع وذم الشبع، ۳ / ۱۰۱)البتہ یہ بات ذہن میں رہے کہ قدرتی طورپرموٹاہونااورہے اورزیادہ کھانے کے سبب موٹاہونااوریہاں موٹاپے سے کھانے کے سبب موٹاہونامرادہے نہ کہ وہ جوقدرتی طورپرہو۔
2 - حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: اس سے مرادغیبت کرنے والے ہیں۔ (شعب الایمان، ۵ / ۳۳، حدیث: ۵۶۶۸)جبکہ امام ابن اثیرجزریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے مطابق اس سے مراد ” کثرت سے گوشت خوری کرنے والے “ ہیں۔ (جامع الاصول، ۷ / ۵۲۹، تحت الحدیث: ۵۵۱۹)
3 - تاریخ المدینة المنورة لابن شبّہ، ذکر حرس رسول صلی الله علیه وسلم، ۱ / ۳۰۰
4 - معرفة السنن والآثار، کتاب الطھارة، باب الوضوء من مس الذکر، ۱ / ۲۳۳، حدیث: ۲۰۷