تھے کہ اسلام میں سب سے پہلے جس دادی کو حصہ دیا گیا اس وقت اس کا بیٹا زندہ تھا۔ (1)
(10155)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن رواحہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ مکی مدنی مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ” وَجَبَ الْخُرُوْجُ عَلٰى كُلِّ ذَاتِ نِطَاقٍیعنی(نمازِ عید کے لئے )ہر کمر بند والی کے لئے نکلنا واجب ہے (2)۔ “ (3)
(10156)…حضرت سیِّدُناجابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں: حضورنَبیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے لوگوں کو عیدین کی نمازبغیر اذان و اقامت کے پڑھائی اور نمازِعیدسے پہلے اور بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھی۔ (4)
(10157)…حضرت سیِّدُنامحمد بن سعد بن ابی وقاص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ میں عرفات میں حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے پاس آیا تو وہ کھانا کھا رہے تھے ۔
جنت میں لے جانے والے اعمال:
(10158)…حضرت سیِّدُناابو ایوب انصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت
________________________________
1 - (حضورانورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے اس دادی کو وہ حصہ)بغیرتوارث ویسے ہی عطافرمایاجیساکہ حکْمِ قرآن ہے کہ اگرتقسیْمِ میراث کے وقت بعض محروم قرابت دار موجود ہوں تو انہیں کو دے دو، فرمایا: وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ (ترجمۂ کنز الایمان: پھر بانٹتے وقت اگررشتہ داراوریتیم اور مسکین آجائیں تو اس میں سے انہیں بھی کچھ دو۔ (پ۴، النسآء: ۸))یا میت کا باپ کافر تھا یا غلام کہ میراث کا مستحق نہ تھا اور محروم وارث دوسرے کو محروم نہیں کرتا۔ (مراۃ المناجیح، ۴ / ۳۷۸)
2 - مُفَسِّرشہیر، حکیْمُ الامت مفتی احمدیارخان نعیمی مراٰۃ المناجیح، جلد1، صفحہ41پرفرماتے ہیں: حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے زمانہ میں تمام عورتوں کو عیدگاہ کی حاضری کا حکم تھا تاکہ شرعی اَحکام سنیں اور نمازِعید یا کم از کم مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوجائیں، مردوں سے علیحدہ بیٹھتی تھیں، سرکار خطبے کے بعد ان کی جماعت میں مخصوص وعظ ارشادفرماتے تھے ۔ عہدِ فاروقی سے عورتیں اسی حاضری سے روک دی گئیں۔ (مراٰۃ المناجیح، ۱ / ۴۱)عورتوں پرنمازِعیدواجب ہے نہ ہی انہیں نمازِعید یا دیگرنمازوں میں کسی نمازکے لئے مسجدآنے کی اجازت ہے ۔ چنانچہ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا: ” جوباتیں عورتوں نے اب پیدا کی ہیں اگر رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم ان باتوں کو ملاحظہ فرماتے تو مسجدمیں آنے سے انہیں ضرورمنع فرمادیتے ۔ “ (بخاری، کتاب الاذان، باب انتظار الناس قیام الامام العالم، ۱ / ۳۰۰، حدیث: ۸۶۹)
نوٹ: اس پرتفصیلی حاشیہ’’روایت نمبر9995‘‘کے تحت ملاحظہ کیجئے ۔
3 - مسند امام احمد ، حدیث اخت عبد اللّٰه بن رواحة، ۱۰ / ۲۸۸، حدیث: ۲۷۰۸۲
4 - مسند امام احمد ، حدیث جابر بن عبد اللّٰه ، ۵ / ۵۰، حدیث: ۱۴۳۷۶، بتغیر قلیل