وَاٰلِہٖ وَسَلَّم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے (1)۔ (2)
جہنم کی بھڑک:
(10143)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ سرورِ کونین، شہنشاہِ دارین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اَلْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَاَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِیعنی بخار جہنم کی بھڑک سے ہے لہٰذا اسے پانی سے بجھاؤ۔ (3)
(10144)…حضرت سیِّدُناجابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہرسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت نجاشی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں چار تکبیریں کہیں۔ (4)
(10145)…حضرت سیِّدُناجابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ ایک غلام آیا، اس نے حضورنَبِیِّ کریم، رَءُفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ہجرت پر بیعت کی، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ خیال نہ ہوا کہ وہ غلام ہے (5)پھر اس کا آقا اسے لینے آیا توآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے ارشادفرمایا: اسے ہمارے ہاتھ بیچ دو چنانچہ اسے دو حبشی غلاموں کے عوض خرید لیا، اس کے بعد کسی سے بھی بیعت کرنے سے پہلے پوچھ لیتے کہ کیا وہ غلام ہے ؟(6)
________________________________
1 - بیوی کابَوسہ لینااورگلے لگانااور بَدَن کوچُھونامکروہ نہیں۔ ہاں اگریہ اَندیشہ ہوکہ اِنْزال ہوجائے گایاجِماع میں مُبتَلا ہوگا اور ہَونٹ اورزَبان چُوسناروزہ میں مُطْلَقًا(یعنی چاہے انزال وجماع کاڈرہویانہ ہو)مکروہ ہیں۔ (بہارشریعت، حصہ۵، ۱ / ۹۹۷)
2 - بخاری، کتاب الصوم، باب المباشرة للصائم، ۱ / ۶۳۵، حدیث: ۱۹۲۷
3 - بخاری، کتاب الطب، باب الحمی من فیح جھنم، ۴ / ۲۷، حدیث: ۵۷۲۳
4 - بخاری، کتاب مناقب الانصار، باب موت النجاشی، ۲ / ۵۸۲، حدیث: ۳۸۷۹
5 - مفسر شہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمراٰۃ المناجیح، جلد4، ص253 پر اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: حقیقتًا یہ بھاگا ہوا غلام تھا اس کا مقصود تھا مولیٰ سے نجات پانا مگر ظاہر یہ کیا کہ مؤمن ہوں مہاجر بن کر آپ کے پاس رہنا چاہتا ہوں، حضور انور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے بھی اس کی تحقیق نہ فرمائی اور اس سے ہجرت پر بیعت لے لی۔ خیال رہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کو ہر کھلے چھپے کی اطلاع دی ہے مگر علم کا ہر وقت حضور ضروری نہیں، حافظ کو سارا قرآن یاد ہوتا ہے مگر ہر لفظ ہر وقت سامنے نہیں رہتا لہٰذا اس سے حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کی بے علمی ثابت کرنا حماقت ہے ۔
6 - مسلم، کتاب المساقاة، باب جواز بيع الحيوان الخ ، ص۸۶۶، حدیث: ۱۶۰۲