صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ بروز قیامت رشتہ کی زبان ہوگی اور وہ عرش کے نیچے کھڑا ہو کر عرض کرے گا: ” اے میرے رب! مجھے کاٹا گیا، اے میرے رب! مجھ پر ظلم ہوا اور میرے ساتھ بُرا سلوک کیا گیا۔ “ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے جواب ارشاد فرمائے گا: ” کیا تو اس پر راضی نہیں کہ جس نے تجھے جوڑامیں اسے جوڑوں گا اور جس نے تجھے توڑامیں اسے توڑوں گا۔ “ (1)
(10139)…حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ہم جناب رسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانَۂ مقدسہ میں ایک صاع غلہ یا ایک صاع جو یا ان جیسی کوئی اور چیز صدقۂ فطر میں دیتے تھے ۔ (2)
شراب سے نفرت کی ایک وجہ:
(10140)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے شراب کو اپنے اوپر حرام کر رکھا تھا، آپ نے نہ تو زمانہ جاہلیت میں شراب پی اور نہ ہی زمانہ اسلام میں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو شراب کے نشے میں مدہوش گندگی میں اپنا ہاتھ ڈالتا اور اسے اپنے منہ کے قریب کرتا جب اس کی بد بو محسوس ہوتی تو دور کر دیتا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دیکھا تو ارشاد فرمایا: اسے معلوم نہیں کہ کیا کر رہا ہے بس جب گندگی کی بدبوپاتا ہے تو اسے دور کر دیتا ہے ۔
(10141)…حضرت سیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بیان کیا کہ رسولِ پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ” آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرو۔ “ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے کہا: پھر ہم گرم پانی کا کیا کریں؟ حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا: جب حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کوئی حدیْثِ پاک بیان کی جائے تو اس کے مقابلے میں مثالیں نہیں دی جاتیں(3)۔ (4)
(10142)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
________________________________
1 - مسند ابو داود الطیالسی، محمد بن کعب عن ابی ھریرة، ص۳۳۱، حدیث: ۲۵۴۳
2 - بخاری، کتاب الزکاة، باب صدقة الفطر صاعا من شعیرو باب الصدقة قبل العید، ۱ / ۵۰۸، حدیث: ۱۵۰۶، بتغیرقلیل
3 - آگ کی پکی چیز کھانے کے بعد وضو سے مراد ہاتھ دھونا اور کلی کرنا ہے نہ کہ نماز کا وضو۔ (ماخوذ ازمراٰۃ المناجیح، ۶ / ۴۶)کیونکہ احناف کے نزدیک اس سے وضونہیں ٹوٹتا۔
4 - ابن ماجہ، کتاب الطھارة، باب الوضوء مماغیرت النار، ۱ / ۲۸۰، حدیث: ۴۸۵