(10134)…حضرت سیِّدُناعُرْوَہ بن زُبَیْررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں: مروان نے اپنی دادی حضرت سیِّدَتُنا سَبْرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس اپنا قاصد بھیجا تو انہوں نے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی کریم، رَءُوفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ” اِذَامَسَّ اَحَدُكُمْ ذَكَرَهٗ فَلْيَتَوَضَّاْیعنی جب تم میں سے کوئی اپنی شرمگاہ کو چھوئے تووہ وضو کرے (1)۔ “ (2)
(10135)…حضرت سیِّدُناعبداللہ بن زید انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم، نُوْرِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب بارش کے لئے دعا کرتے تو اپنی چادر کو پلٹ دیا کرتے ۔ (3)
قطع تعلقی کا وبال:
(10136)…حضرت سیِّدُناجُبَیْر بن مُطْعِم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ مصطفٰے جانِ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ” لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ یعنی رشتہ کاٹنے والاجنت میں نہیں جائے گا۔ “ (4)
مسواک کی فضیلت:
(10137)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اَلسِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِّلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِّلرَّبِ یعنی مسواک منہ صاف کرنے والی(اور)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کا سبب ہے ۔ “ (5)
رشتے کی فریاد:
(10138)…حضرت سیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب
________________________________
1 - یہاں وضوسے مرادہاتھ دھوناہے ۔ یہی حضرت مُصْعَب ابن سعد(رَضِیَ اللہُ عَنْہ)کاقول ہے ، یعنی جوعضوخاص چھوئے مناسب ہے کہ ہاتھ دھوئے جیسے کھانے کے وضو میں تھا۔ (مراٰۃ المناجیح، ۱ / ۲۵۱)
2 - ابن ماجہ، کتاب الطھارة، باب الوضوء من مس ذکرہ، ۱ / ۲۷۷، حدیث: ۴۷۹
3 - بخاری، کتاب الاستسقاء، باب تحویل الرداء فی الاستسقاء، ۱ / ۳۴۶ ، حدیث: ۱۰۱۱
4 - بخاری، کتاب الادب، باب اثم القاطع، ۴ / ۹۷، حدیث: ۵۹۸۴
5 - نسائی، کتاب الطھارة، باب الترغیب فی السواک، ص۱۰، حدیث: ۵