پہلے دورکعتیں پڑھ لے (1)۔ (2)
(10132)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں: جب فجر طلوع ہوتی تو تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دو رکعتیں اتنی مختصر ادا فرماتے کہ میں سوچتی کیا آپ نے ان میں سورۂ فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں؟(3)
سفر میں روزہ:
(10133)…حضرت سیِّدُناجابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے : پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص کو ملاحظہ کیا جس پر سایہ کیا گیا تھااور اس کے پاس لوگوں کا رش تھا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کے بارے میں استفسار فرمایا تو لوگوں نے کہا: یہ روزہ دار ہے ۔ ارشاد فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں(4)۔ (5)
________________________________
1 - شارح بخاری حضرت مولانا مفتی محمد شریْفُ الحق اَمجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: ہمارا(یعنی احناف)اور امام مالک وغیرہ کا مذہب یہ ہے کہ اثناءِ خطبہ نہ کسی کلام کی اجازت ہے نہ کسی نماز کی ۔ ہمارے دلائل یہ ہیں۔ خواہر زادہ نے اپنی مبسوط میں حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کیا کہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا: ” امام جب خطبہ کے لئے نکلے تو نماز ہے نہ کلام۔ “ عمدۃ القاری میں اسی حدیث کی کتاب الاسرار کے حوالے سے ان الفاظ میں تخریج کی: ” جب تم میں سے کوئی آئے اور امام منبر پر ہوتو نہ نماز کی اجازت ہے نہ کلام کی۔ “ ثعلبہ بن ابی مالک نے کہا کہ حضرت عمر(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)جب خطبے کے لئے نکلتے تو ہمیں چپ کرادیتے ۔ امام قاضی عیاض نے فرمایاکہ حضرت ابوبکر، حضرت عمر ، حضرت عثمان(رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ)، خطبے کے وقت نماز پڑھنے سے منع فرماتے تھے ۔ ابن ابی شیبہ نے روایت کیا کہ حضرت علی ، ابنِ عباس، ابنِ عمررَضِیَ اللہُ عَنْہُمْخطبے کے لئے امام کے نکلنے کے بعد نماز اور کلام سے منع فرماتے تھے ۔ حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حُضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا: ” امام خطبہ دے رہا ہو تو نماز نہ پڑھو۔ “ ہمارے یہاں صحیح وراجح مفتٰی بہٖ، حضرت امام اعظم کا قول ہے کہ جب امام خطبے کے لئے اپنے حجرے سے نکلے یا اپنی جگہ سے اٹھے ، اس وقت سے لے کر خطبہ ختم ہونے کے وقت تک نماز ذکر ہر قسم کا کلام ممنوع ہے بلکہ ہر وہ فعل ممنوع ہے جو خطبے کے سننے میں خلل انداز ہو مثلاً پنکھا جلنا ، کچھ لکھنا۔ (نزہۃ القاری، ۲ / ۵۵۳تا ۵۵۶ ملتقطاً)
2 - صحیح ابن خزیمة، کتاب الجمعة، باب الدليل على ان الجالس عند الخ ، ۳ / ۱۶۵، حدیث: ۱۸۳۱
3 - مسلم، کتاب صلاة المسافرین، باب استحباب ركعتی سنة الفجر الخ ، ص۳۶۵، حدیث: ۷۲۴
4 - یعنی ایسے سخت سفرمیں ایسا بے سرو سامانی کا روزہ بھلائی نہیں بلکہ بُرا ہے اور رب تعالیٰ کے اس فرمان کے خلاف ہے ” یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ٘- (پ۲، البقرة: ۱۸۵)۔ “ (مراٰۃ المناجیح، ۳ / ۱۷۱)
5 - بخاری، کتاب الصوم، باب البر الصوم فی السفر، ۱ / ۶۴۱، حدیث: ۱۹۴۶