میں نے عرض کی: یارَسُوْلَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میراوارث توصرف ایک کلالہ(1) ہے ۔ (میری میراث کس کوملے گی؟)تو اس وقت یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی:
یَسْتَفْتُوْنَكَؕ-قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِؕ (پ۶، النسآء: ۱۷۶) ترجمۂ کنز الایمان: اے محبوب تم سے فتویٰ پوچھتے ہیں تم فرمادو کہ اللہ تمہیں کلالہ میں فتوٰی دیتا ہے ۔ (2)
(29-10128)…حضرت سیِّدُناجابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: میں بارگاہِ رسالت میں اپنے والد پر چڑھے قرض کے سلسلے میں حاضر ہوا، میں نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: کون ہے ؟ میں نے کہا: میں۔ ارشاد فرمایا: میں(تو)میں بھی ہوں۔ (گویا آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے ناپسند کیا۔ )(3)
حلال لو حرام چھوڑ دو:
(10130)…حضرت سیِّدُناجابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ساقِیِ کوثر، قاسِمِ نعمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ” رزق میں تاخیر کا اندیشہ نہ کرو کیونکہ کوئی بندہ اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک وہ اپنا رزق پورا نہ کر لے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرو اور تلاشِ رزق میں درمیانی راہ اختیار کرو حلال لو حرام چھوڑ دو۔ “ (4)
(10131)…حضرت سیِّدُناجابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرورِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ بیٹھنے سے
________________________________
1 - کلالہ: اس کوکہتے ہیں جواپنے بعدنہ باپ چھوڑے نہ اولاد۔ (خزائن العرفان، پ۶، النسآء: ۱۷۶)آیت میں جومسائل بیان ہوئے ان کاخلاصہ و وضاحت یہ ہے : (1) اگر کوئی شخص فوت ہو اور اس کے وُرَثاء میں باپ اور اولاد نہ ہو تو سگی اورباپ شریک بہن کو وراثت سے مال کاآدھا حصہ ملے گاجبکہ صرف ایک ہو اور اگر دو یا دو سے زیادہ ہوں تو دو تہائی حصہ ملے گا۔ (2) اور اگر بہن فوت ہوئی اور وُرَثاء میں نہ باپ ہو نہ اولاد تو بھائی اُس کے کُل مال کا وارث ہوگا۔ (3) اگرفوت ہونے والے نے بہن بھائی دونوں چھوڑے تو بھائی کو بہن سے دگنا حصہ ملے گا۔ اہم تنبیہ: وراثت کے مسائل میں بہت وُسْعَت اور قُیُود ہوتی ہیں۔ آیت میں جو صورتیں موجود تھیں ان کو بیان کردیا لیکن اگر وراثت کا کوئی مسئلہ درپیش ہو تو بغیر کسی ماہِرِمیراث عالِم کے خود حل نہ نکالیں۔ (صراط الجنان، ۲ / ۳۷۰)
2 - بخاری، کتاب الوضوء، باب صب النبی صلی الله علیه وسلم الخ ، ۱ / ۹۰، حدیث: ۱۹۴، بتغیر قلیل
3 - بخاری، کتاب الاستئذان، باب اذا قال من ذا فقال انا، ۴ / ۱۷۱، حدیث: ۶۲۵۰
4 - شعب الایمان، باب التوكل بالله عز و جل والتسليم، ۲ / ۶۷، حدیث: ۱۱۸۶