Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
205 - 361
تفتیشِ حدیث کے ماہر: 
(10115)…حضرت سیِّدُناشعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  اگر میں کسی حدیث بیان کرنے والے کے پاس جاؤں جس کے پاس چار حدیثیں ہوں توتین ایسی پکڑ لوں گا جو اس نے نہیں سنی ہوں گی۔ 
(10116)…حضرت سیِّدُناشعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: کتنے ہی حلوے مجھ سے رہ گئے ہیں۔ حضرت سیِّدُنا ابو عبد الرحمٰن سَلَمَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:  اس سے مراد یہ ہے کہ بہت سی احادیث میں حاصل نہیں کر سکا۔ 
(10117)…حضرت سیِّدُناشعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  حدیث کی طلب میں سواریوں پر رہنے والے فلاح نہیں پائیں گے ۔ 
(10118)…حضرت سیِّدُناشعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: علم کی یہ مشغولیت تمہیں ذِکْرُاللہ، نماز  اور صلہ رحمی سے  روکتی ہے تو کیا اب بھی باز نہیں آؤ گے ۔ 
کاش! کسی حمام کا ملازم ہوتا: 
(10119)…شَبابَہ بن سَوَّار کا بیان ہے : میں حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے وصال  والے دن ان سے ملنے گیا تو وہ رو رہے تھے ، میں نے کہا:  ابو بسطام! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ خوش ہو جائیے کیونکہ آپ کاتو اسلام میں بلند مقام ہے ۔ یہ سن کر انہوں نے فرمایا:  مجھے رہنے دو، کاش! میں کسی حمام کا ملازم ہوتا اور حدیث نہ جانتا۔ 
(10120)…حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: حدیث سے بڑھ کر مجھے کسی چیز کا خوف نہیں کہ وہ مجھے جہنم میں داخل کر دے ۔ 
(10121)…حضرت سیِّدُناشعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  میں نے ہر علم والے کو اپنے علم کے سبب ہی کھاتا ہوا دیکھاہے ۔ 
غریبوں کا خیال: 
(10122)…حضرت سیِّدُناشعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے :  اگرغریب نہ ہوتے تو میں حدیث بیان نہ کرتا، میں اس لئے حدیث بیان کرتا ہوں تاکہ انہیں کچھ دیا جائے ۔