Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
204 - 361
(10107)…حضرت سیِّدُناشعبہ بن حجاجرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: یحییٰ بن جَزَّارنے امیرالمؤمنین علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے فقط تین حدیثیں سنی ہیں۔   
(10108)…حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاجرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: میں نے ابو مُہَزِّم تمیمی بصری کو حضرت سیِّدُنا ثابت بُنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی مجلس میں دیکھا، اس کا حال یہ تھا کہ اگر اسے کوئی ایک سکہ  دے تو وہ اسے 90 حدیثیں سنا دے ۔ 
(10109)…حضرت سیِّدُناامیہ بن خالد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد کا بیان ہے کہ میں نے حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا: آپ حضرت سیِّدُنامحمد عرزمی اور حضرت سیِّدُناعبدالملک بن ابوسلیمان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا سے حدیث بیان کیوں نہیں کرتے حالانکہ وہ حدیث میں اچھے ہیں؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جواب دیا:  اسی وجہ سے تو  میں ان سے روایت نہیں کرتا۔ 
(10110)…حضرت سیِّدُناامیہ بن خالد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِدبیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا:  آپ حضرت سیِّدُناعبد الملک بن ابو سلیمان عرزمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے حدیث بیان کیوں نہیں کرتے ؟ انہوں نے فرمایا:  اُنہیں رہنے دو۔ میں نے کہا:  آپ نے انہیں کیوں ترک کیا ہے ، آپ حضرت سیِّدُنا محمد بن عُبَـیْدُاللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے تو حدیث بیان کرتے ہیں لیکن عبد الملک سے حدیث بیان نہیں کرتے حالانکہ وہ حدیث میں اچھے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ان کے اچھے ہونے کی وجہ سے نہیں کرتا۔ 
(10111)…حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  جو حدیث میں بھول جاتا ہوں تواسے یاد کرتے کرتے بیمار ہو جاتا ہوں۔ 
(10112)…حضرت سیِّدُناشعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  مُعَزز لوگوں سے روایتیں لیا کرو کیونکہ وہ جھوٹ نہیں بولتے ۔ 
(10113)…حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: بہت خوب! اگر میں تمہیں ایک ثقہ راوی سے حدیث بیان کردوں تو پھر تین سے بیان نہیں کرتا۔ 
(10114)…حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: میں اور قیس بن ربیع مسجد میں بیٹھے تھے ، وہ ابو حصین عثمان بن عاصم سے مروی احادیث بیان کرتے ہی جا رہے تھے حتّٰی کہ مجھے ایسا لگنے لگا کہ اب مسجد ہم پر گرپڑے گی۔