کہتے ہیں : یا اسی مفہوم کا کلام فرمایا۔
باہمی تعظیم وتکریم:
(10094)…حضرت سیِّدُنا سلیمان بن مغیرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ذکر کرتے تو انہیں ” سیِّدُ الْمُحَدِّثِیْن یعنی محدیثین کا سردار “ کہتے اور حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب حضرت سیِّدُناسلیمان بن مغیرہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا ذکرکرتے توانہیں ” سَیِّدُ الْقُرَّاءیعنی علماکا سردار “ فرماتے ۔
حدیث سنانے میں احتیاط:
(10095)…حضرت سیِّدُنایحییٰ بن سعیدقَطان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: ہم حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس بیٹھے تھے ، ایک شخص نے ان سے حدیث سنانے کی درخواست کی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے منع فرما دیا، میں نے پوچھا: آپ نے اسے حدیث کیوں بیان نہیں کی؟ فرمایا: یہ قصہ گو لوگ ہیں حدیث میں اضافی باتیں شامل کر دیتے ہیں۔
(10096)…حضرت سیِّدُنااَبُوعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ روایتِ حدیث میں ” اَخْبَرَنِيْ۔ قَالَ : اَخْبَرَنِيْ “ جیسے اَلفاظ پسند کیا کرتے تھے ۔
(10097)… حضرت سیِّدُناشعبہ بن حجاجرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اگر لوگوں سے حیا نہ ہوتی تو میں ابان بن ابو عیاش کی نماز جنازہ نہ پڑھتا۔
(10098)…حضرت سیِّدُنابکربن بَکّارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفجرکی نماز کے بعد کافی دیر تک خاموش بیٹھے رہے پھر میرے پاس آکر فرمانے لگے : کیا تم یہ سمجھ رہے تھے کہ میں تسبیح پڑھ رہا ہوں؟بات یہ ہے کہ آج میرا درس ” حدیثِ قتادہ “ تھا تو دو حدیثیں میرے ذہن میں آئیں تو میں انہیں یاد کررہا تھا یہاں تک کہ وہ مجھے یادآ گئیں۔
حفظِ حدیث کااہتمام:
(10099)…حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: میں حضرت سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ