Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
202 - 361
 کہتے ہیں  : یا اسی مفہوم کا کلام فرمایا۔ 
باہمی تعظیم وتکریم: 
(10094)…حضرت سیِّدُنا سلیمان بن مغیرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ذکر کرتے تو انہیں  ” سیِّدُ الْمُحَدِّثِیْن یعنی محدیثین کا سردار “  کہتے اور حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب حضرت سیِّدُناسلیمان بن مغیرہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا ذکرکرتے توانہیں ” سَیِّدُ الْقُرَّاءیعنی علماکا سردار “ فرماتے ۔ 
حدیث سنانے میں احتیاط: 
(10095)…حضرت سیِّدُنایحییٰ بن سعیدقَطان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:  ہم حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس بیٹھے تھے ، ایک شخص نے ان سے حدیث سنانے کی درخواست کی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے منع فرما دیا، میں نے پوچھا:  آپ نے اسے حدیث کیوں بیان نہیں کی؟ فرمایا:  یہ قصہ گو لوگ ہیں حدیث میں اضافی باتیں شامل کر دیتے ہیں۔ 
(10096)…حضرت سیِّدُنااَبُوعُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ روایتِ حدیث میں ” اَخْبَرَنِيْ۔ قَالَ  :  اَخْبَرَنِيْ “ جیسے اَلفاظ پسند کیا کرتے تھے ۔ 
(10097)… حضرت سیِّدُناشعبہ بن حجاجرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  اگر لوگوں سے حیا نہ ہوتی تو میں ابان بن ابو عیاش کی نماز جنازہ نہ پڑھتا۔ 
(10098)…حضرت سیِّدُنابکربن بَکّارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفجرکی نماز کے بعد کافی دیر تک خاموش بیٹھے رہے پھر میرے پاس آکر فرمانے لگے :  کیا تم یہ سمجھ رہے تھے  کہ میں تسبیح پڑھ رہا ہوں؟بات یہ ہے کہ آج میرا درس  ” حدیثِ قتادہ “ تھا تو دو حدیثیں میرے ذہن میں آئیں تو میں انہیں یاد کررہا تھا یہاں تک کہ وہ مجھے یادآ گئیں۔ 
حفظِ حدیث کااہتمام: 
(10099)…حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: میں حضرت سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ