تدلیس سے بیزاری:
(10089)…حضرت سیِّدُناعفان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کا بیان ہے : ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے ایک حرف کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: آسمان سے زمین پر گر جانا میرے لئے تدلیس کرنے سے زیادہ آسان ہے ۔ (1)
استاد سے محبت:
(10090)…حضرت سیِّدُنامِنْہَال بن بَحْررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: میری اکثر روایتیں حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عون، حضرت سیِّدُنا اسود بن شیبان اور حضرت سیِّدُناسلیمان بن مغیرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم سے ہوتی ہیں، اگر میں ہر روز حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی سواری کی رکاب تھامنے پر قادر ہوتا تو ضرور ایسا کرتا۔
(10091)…حضرتِ سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: دیکھ لو کہ کس سے حدیث نقل کر رہے ہو؟ حضرتِ سیِّدُناقُرّہ بن خالد، حضرتِ سیِّدُناسلیمان بن مُغِیرہ، حضرتِ سیِّدُنا اسود بن شیبان اور حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم سے نقل کیا کرو، میری خواہش ہے کہ ہر دن حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی سواری کی رکاب تھاما کروں۔
(10092)…حضرتِ سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: جو شخص اس حال میں مرا کہ اس نے حدیث کے ذریعے کچھ طلب نہ کیا مجھے اس پر رشک آتا ہے ۔
(10093)…حضرت سیِّدُناحماد بن زید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: مجھے اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ کسی حدیث میں میری مخالفت کون کر رہا ہے سوائے حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے کیونکہ آپ حدیث میں مشغول رہنے والے تھے ، آپ ایک استاد کے پاس باربارآکر حدیث کی تکرار کیا کرتے تھے ۔ راوی
________________________________
1 - وہ حدیث جس کو راوی اپنے شیخ سے سنے بغیر ایسے الفاظ سے شیخ کی طرف نسبت کرے جس سے سننے کا گمان ہو۔ اس کی صورت یہ ہے کہ راوی نے حدیث اپنے شیخ کے علاوہ کسی اورسے سنی ہو لیکن روایت کرتے وقت ایسے الفاظ ذکر کرے جو شیخ سے سماع کا ایہام(وہم پیدا) کرتے ہوں جیسے : قَالَ، عَنْ اوراَنَّ وغیرہ۔ (نصابِ اصولِ حدیث، ص۶۳)