Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
200 - 361
روایات لینے میں احتیاط:  
(10083)…حضرت سیِّدُناورقاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:  میں نے حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے سوال کیا:  آپ نے حضرت سیِّدُنا ابو زُبَیْر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مرویات کو کیوں چھوڑ دیا؟ آپ نے فرمایا:  میں نے انہیں ترازو پر وزن کرتے ہوئے دیکھا تو وہ ایک  پلڑے کو جھکا رہے تھے لہٰذا میں نے انہیں چھوڑدیا۔ 
(10084)…حضرت سیِّدُناابو داود رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  بیان کرتے ہیں:  ہم سے حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بیان کیا کہ حضرت سیِّدُنا معاویہ بن قُرّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھے حدیث بیان کی تو میں نے ان سے کہا:  آپ کو یہ حدیث کس نے بیان کی؟ انہوں نے کہا:  مجھے فلاں نے یہ حدیث بیان کی ہے ، اے شعبہ! کیا آپ اس حدیث تک پہنچنے سے مطمئن ہیں؟
راویانِ حدیث پر گہری نظر: 
(10085)…حضرت سیِّدُناعیسٰی بن یونس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھ سے فرمایا:  تمہارے دادا نے حارث اَعْوَر سے فقط چار حدیثیں سنی ہیں۔ میں نے پوچھا:  آپ کو کس نے بتایا؟ فرمایا:  انہوں نے خود ہی مجھے بتایا تھا۔ 
(10086)…ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق سے کہا:  حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایاہے کہ آپ نے حضرت سیِّدُنا علقمہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کوئی حدیث نہیں سنی۔ اس پر حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاقنے فرمایا:  انہوں نے سچ کہاہے ۔ 
(10087)…حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق نے حضرت سیِّدُنا ابو وائل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فقط دو ہی حدیثیں سنی ہیں۔ 
(10088)…حضرت سیِّدُناجریربن حازِمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے بھانجے ادریسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکابیان ہے کہ میں نے حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو خواب میں دیکھ کر پوچھا:  آپ نے اپنے لئے کن معاملات کو زیادہ سخت پایا؟ آپ نے فرمایا:  حدیث کے راویوں کے معاملات میں رخصت سے کام لینے کو۔