Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
199 - 361
گردنوں میں ڈالتا ہوں ۔ 
(10079)…حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:  آدمی دینی وسعت میں رہتاہے جب تک سند طلب نہ کرے ۔ 
آپ نے یہ حدیث خود سنی یانہیں ؟
(10080)…حضرت سیِّدُناعبد الرحمٰن بن مہدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  اس روایت کے علاوہ میں نے کبھی حق پوشی سے کام نہیں لیا۔ روایت یوں ہے کہ حضرت سیِّدُنا قتادہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایاکہ حضرت سیِّدُناانس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے (کہ حضورنبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا):  ” اپنی صفوں کو ضرور سیدھا کیا کرو۔  “ اس روایت میں حضرت شعبہ نے حضرت سیِّدُناقتادہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَاکوروک کریہ نہیں پوچھا کہ ” آپ نے اُن سے یہ حدیث خودسنی یا نہیں؟ “  حدیث کے حُسن میں میرے سامنے خرابی آجانا مجھے ناپسند گزرا اور حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: ایک حدیث شریف کے علاوہ میں نے جب بھی کوئی حدیث سنی بیان کرنے والے سے اوپر والے راوی کے متعلق یہ ضرور پوچھا کہ  ” آپ نے اُن سے یہ حدیث خود سنی ہے ؟ “ 
(10081)…شَبابہ بن سَوَّار کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہخَصِیب بن جَحْدِرپر جَرْح کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے :  میں نے اسے حمام میں بغیر ازار کے دیکھا ہے ۔ 
راویانِ حدیث پرجَرْح: 
(10082)…حضرت سیِّدُنامکی بن ابراہیمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناشعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سیِّدُناعمران بن حُدَیْررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس آتے اورفرماتے :  عمران! آؤ ہم رضائے الٰہی کے لئے کچھ دیر غیبت کریں اور راویانِ حدیث کی برائیاں کریں۔ (1)



________________________________
1 -   مفسر شہیر ، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمراٰۃ المناجیح، جلد3، صفحہ 109 پر فرماتے ہیں:  خیال رہے کہ ذاتی معاملات میں کسی مسلمان کے عیب کھولنا سخت جرم ہے جس کا وبال بہت ہے مگر دینی معاملات میں خود مسلمان کے عیب کھولنا عبادت ہے ۔ محدثین حدیث کے راویوں کے عیوب بیان کرجاتے ہیں غیبت یا عیب لگانے کے لیے نہیں بلکہ حدیث کا درجہ معین کرنے کے لیے کہ اس کے راویوں میں چونکہ فلاں عیب ہے لہٰذا یہ حدیث ضعیف ہے فضائِلِ اَعمال میں کام آئے گی، احکام میں کام نہ دے گی۔