Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
198 - 361
  ابوبسطام!کہاں تشریف لے جاتے ہیں؟انہوں نے فرمایا: میں فلاں کے خلاف مقدمہ کرنے جارہاہوں کیونکہ اُس نے اس اس طرح سے ایک حدیث شریف بیان کی ہے ۔ میں نے کہا:  ایسی ہی حدیث مجھ سے حضرت سیِّدُنا ایوب سختیانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے بھی بیان کی ہے ۔ یہ سن کر آپ نے مٹی پھینکی اور واپس چلے گئے ۔ 
(10073)…حضرت سیِّدُنا جُدّی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو تیزی سے جاتے ہوئے  دیکھا تو پوچھا:  اے ابو بسطام! کہاں جا رہے ہیں؟ فرمایا:  میں جعفر بن زُبَیْر پر مقدمہ دائر کرنے جا رہا ہوں کیونکہ وہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر جھوٹ باندھتا ہے ۔       
جھوٹ بولنے پر احتساب: 
(10074)…حضرت سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن مہدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ ایک شخص کے پاس  سے گزرا جو حدیث بیان کر رہا تھا، تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  ” اس نے جھوٹ کہا، خدا کی قسم! اگر اس سے خاموش رہنا میرے لئے حلال ہوتا تو میں خاموش رہتا۔  “ یا اس جیسا کوئی اورجملہ کہا۔ 
(10075)…حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  میرے نزدیک بدکاری  کرنا ابان بن ابوعیاش سے روایت کرنے سے زیادہ آسان ہے ۔ 
(10076)…حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  میرے نزدیک بدکاری کرنا اس  سے زیادہ آسان ہے کہ میں کہوں:   ” قَالَ فُلَانٌیعنی فلاں نے یہ کہاہے  “  جبکہ میں نے اس سے سنا نہ ہو۔ 
روایتِ حدیث میں مُتَشَدِّد: 
(10077)…حضرت سیِّدُنا شعبہ بن حجاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  میرا آسمان یا اس محل سے گرنا مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں کہوں:  ”  حَکَم نے کسی چیز کے بارے میں یہ کہاہے ۔  “  جبکہ میں نے وہ بات ان سے سنی نہ ہو اور آپ نے یہ بھی فرمایا:  میں روایتِ حدیث کے معاملے میں حروریہ (کی طرح متشدد)ہوں۔ 
(10078)…حضرت سیِّدُناابوداؤدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناشعبہ بن حجاجرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ایک شخص سے روایت بیان کی پھر اس کاحال بیان کر کے فرمایا:  میں اسے اپنی گردن سے نکال کر تمہاری